Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳
دعوت کے نفوذ کی راہ میں اصل رکاوٹ یہی کشیدگی ہے نہ کہ مسلمانوں کی عملی کوتاہی۔ اگر مسلمان اور غیرمسلموں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو جائیں تو فوراً ہی دعوت کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس کے بعد دونوں کا باہمی اختلاط ہی دعوت کے لیے کافی ہو جائے گا جس طرح وہ پچھلے زمانوں میں ہوا تھا۔ ایک مسلمان نے کہا کہ کا نفرنس میں آپ کی دونوں تقریریں امن و اخوت کے موضوع پر تھیں۔ آپ نے براہ راست اسلامی دعوت پیش نہیں کی۔ میں نے کہا کہ کا نفرنس والوں کی طرف سے جو موضوع دیا گیا تھا، مجھ کو بہر حال اسی موضوع پر بولنا تھا۔ اگر میں خود ساختہ طور پر کسی اور موضوع پر بولنے لگتا تو وہ غیر متعلق (irrelevant) ہو جاتا۔ اور پھر اہل علم کی اس کانفرنس میں میری تقریر کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح براہ راست دعوت ایک کام ہے اسی طرح تقریب دعوت بھی ایک ضروری کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریب دعوت براہ راست دعوت کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یہی پیغمبرانہ سنت ہے اور فطرت کا تقاضا بھی۔ پونہ ہندوستان کے ان چند مقامات میں سے ہے جس کی معتدل آب و ہوا کی بنا پر انگریزوں نے اس کو اپنی رہائش کے لیے پسند کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پونہ میں برٹش حکومت کے ابتدائی زمانہ ہی میں تعلیم کا رواج ہو گیا چنانچہ آج یہاں بہترین تعلیمی ادارے قائم ہیں اور عمومی طور پر لوگ تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں۔ اسی کا یہ فائدہ ہے کہ پونہ کے لوگوں میں جو شعور اور ڈسپلن نظر آتا ہے وہ ملک کے دوسرے حصوں میں کم ملے گا۔ مثلاً یہاں کی سڑکوں پر یہ ایک عام منظر ہے کہ سواریاں اپنی اپنی لین میں چلتی ہیں۔ وہاں دہلی والی صورت نہیں ہے جہاں سڑکوں پر ہر آدمی ضابطہ کو توڑ کر اپنی گاڑی بھگا نے کی کوشش کرتا ہے۔ پونہ کی سڑک پر آپ اپنی گاڑی چلا رہے ہوں اور اور ٹیک کرنے کے لیے اپنا ہارن بجائے تو اگلا آدمی فوراً ہی اپنی گاڑی کو کنارے کر لے گا۔ دہلی جیسے شہروں میں ایسا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ فوراً ہی اس کو وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جب کہ پونہ میں بار بار مجھے اس کا تجربہ ہوا کہ اس طرح کے مواقع پر کوئی آدمی اس کو وقار کا مسئلہ نہیں بناتا بلکہ سادہ طور پر صرف یہ دیکھتا ہے کہ میں ہلکی رفتار سے چل رہا ہوں اور پیچھے والا تیز رفتار سے تو مجھے کنارے ہٹ جانا چاہیے تاکہ پیچھے والا رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ جائے۔
پونہ مرہٹوں کاتاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف نام کے اعتبار سے ہمارا شرہ ہے بلکہ یہ علاقہ ہندوستان