Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۴
کے سب سے زیادہ اہم علاقہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بمبئی بھی اسی علاقہ کا ابیک حصہ ہے جو ہندوستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دولت مند شہر سمجھا جاتا ہے۔
اورنگ زیب سے لے کر بعد کے تمام مسلم رہنما بشمول شاہ ولی اللہ دہلوی سب سے بڑا مسئلہ مرہٹوں کو سمجھتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ مرہٹوں کے زور کو توڑنا مسلم عہد کو دوبارہ واپس لانے کے ہم معنی ہے۔ یہ تصور یک وقت دواعتبار سے سطحی تھا۔ ایک یہ کہ حال کے اعتبار سے یہ دراصل انگریز تھے جو ہندوستان میں مسئلہ بن رہے تھے۔ اور مستقبل کے اعتبار سے مراٹھا قوم مزید زور آور ہو کر دوبارہ اس علاقہ کی طاقت نمبرایک بننے والی تھی ـــــ سطحی مشاہدہ اور گہری بصیرت میں کتنا زیادہ فرق ہے، اس کی ایک مثال اس واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ہمارے ہوٹل کے عین سامنے فرگوسن کالج ہے۔ یہ کالج سوا سو سال پہلے انگریزوں نے قائم کیا تھا۔ یہ تاریخی کالج بہت بڑے کیمپس میں واقع ہے۔ پونہ میں تعلیم کے عمومی رواج میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ۱۸۵۷ء کی بغاوت کے بعد اس وقت کے برٹش حکمرانوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ ہندوستانیوں کو انگریزی زبان اور مغربی علوم پڑھائے جائیں۔ اس سے وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ہندوستانیوں کے باغیانہ جذبات ختم ہو جائیں گے اور وہ اس ملک میں آسانی کے ساتھ حکومت کر سکیں گے۔ اس فیصلے کے تحت انھوں نے ملک کے مختلف مقامات پر انگریزی زبان اور مغربی تعلیم کے ادارے قائم کیے یا قائم کرنے میں مدد کی۔ انھیں میں سے ایک علی گڑھ کا تعلیمی ادارہ ہے جو اب مسلم یونی ورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج اس ادارہ کو "عظمت ملی" کانشان بتایا جاتا ہے۔ انگریزی دور میں جب سر سید اور ان کے ساتھیوں نے یہ تعلیمی ادارہ قائم کیا تو مسلمانوں کی طرف سے اس کی زبردست مخالفت کی گئی۔ یہ دراصل انگریز تھے جن کی براہ راست یا بالواسطہ مدد سے اس ادارہ کو قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
پونہ کی سڑکوں سے بار بار گزرنا پڑا۔ اس دوران مختلف ایسے مناظر دیکھے جو کافی سبق آموز تھے۔
مثلاً ایک بار سڑک سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اسکول کے طلبہ جو سب کے سب یونیفارم میں تھے دو، دو کی قطار بنائے ہوئے لمبی لائن میں فٹ پاتھ سے گزر رہے ہیں۔ یہ ڈسپلن شمالی ہند کے شہروں میں کم نظر آتا ہے۔ اسی طرح اتوار کے دن یہی منظر دوبارہ نظر آیا۔ فٹ پاتھ پر بڑی