Be realist and ensure your success
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶
میں نے کہا کہ ظلم کو ختم کرنے کے لئے جہاں جہاں اقدام ک گیا ہے وہاں ظلم ختم ہو گیا۔ مثلاً روس میں ظلم کو ختم کرنے کے نام پر خونیں انقلاب لایا گیا۔ مگر اس نے روس میں ظلم کا خاتمہ نہیں کیا۔ مصر میں ظلم کو ختم کرنے کے لئے شاہ فاروق کو اور پاکستان میں ظلم کو ختم کرنے کے لئے ذوالفقارعلی بھٹو کو ختم کیا گیا۔ مگر دوبارہ ان کے خاتمہ سے ظلم کا خاتمہ نہیں ہوا۔ یہی تاریخ میں بار بار ہوا ہے۔
اصل یہ ہے کہ خاتمہ ظلم کے نام پر ٹکراؤ کرنے سے امن نہیں آتا۔ بلکہ اس چیز کو ٹالریٹ کرنے سے امن قائم ہوتا ہے جس کو آپ ظلم کا نام دے رہے ہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسا نظام قائم ہو جائے جو تمام لوگوں کو بالکل ٹھیک دکھائی دینے لگے۔ آپ کوئی بھی نظام بنائیں، کچھ ایسے لوگ ہمیشہ باقی رہیں گے جن کو وہ غیر منصفانہ دکھائی دے گا۔
ظلم ختم کرنے کی واحد قابلِ عمل صورت یہ ہے کہ اس سے براہ راست ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ان دائروں میں کام کیا جائے جہاں ٹکراؤ کئے بغیر کام کرنے کا موقع حاصل ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال جدید جاپان میں ملتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان عظیم ظلم کا شکار ہوا۔ امریکی غلبہ کی صورت میں جنگ کے بعد بھی یہ ظلم بدستور باقی رہا۔ مگر جاپان نے "ظالم" سے ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر پر امن دائرہ میں اپنا عمل شروع کر دیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ الجیریا پر لکھیے۔ وہاں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ اب تک ساٹھ ہزار آدمی مارے جا چکے ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے کہ مرنے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور مارنے والے بھی مسلمان۔ میں نے کہا کہ الجیریا اور اس قسم کے دوسرے ملکوں میں، صرف ایک ہی فارمولا قابلِ عمل ہے۔ اور وہ وہی ہے جو آج بھی سعودی عرب اور دوسرے پٹرول کے ملکوں میں بالفعل پوری طرح رائج ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ "پولیٹیکل اقتدار کو چیلنج نہ کرو، اس کے بعد تم کو ہر قسم کی آزادی حاصل رہے گی۔ "
انھوں نے کہا کہ الجیریا میں وہاں کی حکومت جو کچھ کر رہی، کیا اس کو آپ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے۔ میں نے کہا کہ الجیریا یا سے لیکر کشمیر تک ہر جگہ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ وہ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عقل انسانی کی خلاف ورزی کا مسئلہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues