مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵
تعداد میں لوگ لمبی لائن میں خاموشی کے ساتھ چلے جارہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ لوگ چرچ جارہے ہیں۔ اس واقعہ میں دو سبق ہے۔ ایک یہ کہ پوری سڑک پر بکھر کر چلنے کی صورت میں یہ لوگ دوسرے مسافروں کے لیے مسئلہ بن جاتے۔ انھوں نے اس کا آسان حل یہ دریافت کیا کہ فٹ پاتھ پر اپنی لمبی لائن بنالیں۔ دوسرا سبق یہ تھا کہ جب دائیں بائیں پھیلنے کے مواقع نہ ہوں تو آگے اور پیچھے کی طرف لمبی لائن میں پھیل جاؤ۔ اس دنیا میں ہر مشکل کا سادہ حل موجود ہوتا ہے بشرطیکہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرے۔ اسی طرح دو بار یہ صورت پیش آئی کہ ہماری گاڑی بھیڑ میں کسی سائیکل یا اسکوٹر سے ٹکر آگئی۔ دونوں بار ایسا ہوا کہ سائیکل اور اسکوٹر والے نے پیچھے مڑ کر ایک بار دیکھا اور پھر خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ حالاں کہ اس قسم کا واقعہ اگر دلی میں ہو جائے تو دونوں میں تکرار ہونا لازمی ہے۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں میں ہاتھاپائی کی نوبت آجائے۔ ایک ہی ملک کے دو حصوں میں مزاج کا اتنا زیادہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ غالباً پالیٹکس ہے۔ دہلی جیسے علاقوں میں مدت سے پالیٹکس کی دھوم جاری رہی ہے جس نے لوگوں کو بے برداشت اور اشتعال پسند بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پونہ جیسے علاقوں میں سیاست کا زور کم تھا۔ اس لیے وہاں کے لوگ عام طور پر متحمل اور تعمیر پسند ہیں۔ ڈاکٹر بار لنگے(۷۴سال) پونہ کی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ انتہائی حد تک سیکولراور غیر متعصب آدمی ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تجویز مسٹر جناح سے پہلے اقبال نے پیش کی تھی۔ اس اعتبار سے پاکستان کے اصل فکری قائد اقبال ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ یہ بات مجھے بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف اقبال نے یہ شعر کہا کہ:
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
مگر انھیں اقبال نے برصغیر ہند میں مذہب کے نام پر پارٹیشن کی تائید کی۔ جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل طور پر مذہبی بیر کا سبب بن گیا۔
میں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ مذہب محبت سکھاتا ہے وہ بیر نہیں سکھاتا۔ لیکن جب مذہب کو زر اور زمین کے مسئلے سے جوڑا جائے گا تو ہمیشہ وہی الٹا نتیجہ نکلے گا جو برصغیر ہند میں نکلا۔ صحیح بات یہ ہے کہ مذہب کو صرف دل سے جوڑنا چاہیے ۔ مذہب کا اصل کام آدمی کے اندر فکری اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ بقیہ خارجی اصلاحات اپنے آپ انسانی انقلاب کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ خارجی چیزوں کو اگر