Al-Risala · May 1997 · page 46

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۶

براہ راست تحریک کا نشانہ بنایا جائے تو اس سے صرف فساد پیدا ہو گا نہ کہ اصلاح۔ ڈاکٹر سریندر بارلنگے نے یکم دسمبر کی صبح کو اپنے یہاں چائے پر مدعو کیا تھا۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ڈاکٹر بارلنگے کی عمر تقریبا ۵۰ سال ہے اور وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے برت کو انگریز وائسرائے نے اپنی فوجوں سے زیادہ طاقت ور بتایا تھا۔ پھر مہاتما گاندھی نے ملک کے بٹوارے کو روکنے کے لیے اپنی یہ طاقت کیوں نہیں استعمال کی۔

ڈاکٹر بارلنگے نے کہا کہ مہاتما گاندھی سے براہ راست یہ سوال کیا گیا تھا انھوں نے جواب دیا کہ میرے برت کی طاقت اس وقت ہے جب کہ عوام میرے ساتھ ہوں۔ اور اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ بٹوارے کے سوال پر دیش کے عوام میرا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ڈاکٹر بارلنگے نے کہا کہ اس وقت میں ایک مراٹھی اخبار "انقلاب" نکالتا تھا۔ میں نے خود اپنے اخبار میں اس پر اداریہ لکھا تھا جس میں میں نے کہا تھا کہ پاکستان دو، آزادی لو۔ انھوں نے کہا کہ اس سوال پر اگر مہاتما گاندھی برت رکھتے تو یقیناً ان کا برت ناکام ہو جاتا۔ کیوں کہ عوام آزادی کے لیے مزید انتظار پر تیار نہ تھے۔ اس گفتگو کے بعد مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب "آزادی ہند" یاد آئی۔ انھوں نے اس معاملہ پر جو کچھ لکھا ہے اس میں مذکورہ پہلو کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ انھوں نے ملک کی تقسیم کے معاملہ کو صرف چند سیاسی شخصیتوں کا معاملہ بنا دیا ہے وہ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ جمہوری دور میں کسی سیاسی شخصیت کی طاقت صرف اس وقت ہے جب کہ عوام کی بھیڑ اس کے ساتھ ہو۔ عوامی بھیڑ سے کٹے ہی سیاسی لیڈر کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ترازو کے پلڑے پر پلٹہ کا بٹ چھوڑ کر کونسل کا باٹ اس سے اتار لیا جائے۔ ۳۰ نومبر کو کانفرنس ختم ہو گئی مگر اس کے مہا بعد یکم دسمبر ۱۹۶۶ء کو ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ ایک بڑے پنڈال میں کافی لوگ اکٹھا تھے۔ یہ جلسہ ورلڈ پیس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں دوسرے ممتاز افراد کے علاوہ ڈاکٹر کلیس نوبیل (فاؤنڈر چیرمین، یونائٹیڈارتھ، نیویارک) فرانسین فورنیر (اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل، یونیسکو، فرانس) شامل تھے ۔

اس موقع پر دوسروں کے علاوہ میری بھی ایک تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ امن کے مقصد کے لیے ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ قائم کرنا بہت خوش آئند بات ہے۔ میں دل سے بے حد امن پسند آدمی ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page