مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷
چنانچہ امن وانسانیت کی باتیں کرتے ہوئے میرا دل بھر آیا۔ میں بے اختیار رونے لگا۔ میرے درد بھرے انداز کو دیکھ کر مجمع بھی رو پڑا ۔ اختتام پر جب میں اسٹیج سے نیچے اترا تو بہت بڑی تعداد میں لوگ برکت لینے کے لیے میرے گرد اکٹھا ہو گئے۔ یہ انگریزی تقریر ان شاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کی شام کو پونہ سے واپسی ہوئی۔ یہ سفر بذریعہ انڈین ایرلائنس طے ہوا۔ پونہ ایئر پورٹ پر اتفاقاً مسٹر ارن شوری سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بھی اسی جہاز سے دہلی جا رہے تھے۔ یہاں وہ مسٹرانا ہزارے سے ملاقات کے لیے آئے تھے جو اس وقت کرپشن کے خلاف برت رکھئے ہوئے ہیں مسٹرانا ہزارے ایک سچے دیش بھگت ہیں مگر جہاں تک ان کے برت کا تعلق ہے مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ کیونکہ ہندوستان کا کرپشن کسی آدمی کے برت سے ختم نہیں ہو سکتا خواہ برت رکھنے والے خود مہاتما گاندھی کیوں نہ ہو۔
مسٹر ارن شوری سے میں نے پوچھا کہ انڈیا میں آج کل جوڈیشل ایکٹیوزم زوروں پر ہے۔ بہت سے لیڈر عدالتی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ کیا اس سے ملک میں کچھ سدھار آئے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ صرف جوڈیشل ایکٹیوزم سے تو کسی سدھار کی امید نہیں۔ ہمارے ملک کاکرپشن بہت گمبھیر ہے۔ پھر انھوں نے مسکرا کر کہا کہ کم از کم اس معاملہ میں اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک کچھ لوگوں کو کڑی سزا نہ دی جائے حالات میں سدھار ہونے والا نہیں۔
واپسی میں جہاز کے اندر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے بتایا کہ میرا پونہ کا سفر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آج کل ہر روز جگہ جگہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، کیا ان کا کوئی فائدہ بھی ہے۔ میں نے کہا کہ ہر چیز کا ایک براہ راست فائدہ ہوتا ہے اور ایک بالواسطہ فائدہ ۔ میں جانتا ہوں کہ ان کانفرنسوں کا براہ راست فائدہ نسبتاً کم ہے مگر ان کا بالواسطہ فائدہ بہت زیادہ ہے۔ اور اسی کے لیے میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہونے والی کانفرنسوں میں شریک ہوتا ہوں۔ ان کانفرنسوں میں مختلف علاقوں اور مختلف ملکوں کے لوگ آتے ہیں۔ عام حالات میں اگر آپ ان سے ملنا چاہیں تو یہ ایک بے حد مشکل کام ہوگا۔ مگر کانفرنس میں یہ مختلف قسم کے لوگ ایک جگہ مل جاتے ہیں۔ ان سے ملاقات اور انٹرایکشن کی صورت میں جو فائدہ ہوتا ہے وہ بے حد اہم ہے۔ یہ فائدہ