Al-Risala · May 1997 · page 48

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸

کتابوں کے مطالعہ سے یا اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کے انٹریکشن سے انسانی تجربات میں اور عمومی طور پر انسانیت کو سمجھنے میں، بہت مدد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کانفرنسوں کے دوران تعمیری موضوعات کا جو چرچا ہوتا ہے اس سے ان کے حق میں ایک عمومی فضا بنتی ہے جو کسی اور طرح نہیں بن سکتی۔

یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کی شام کو دہلی واپسی ہوئی تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ میرا یہ سفر خلاف معمول کافی لمبا تھا۔ اس سے پہلے میں صرف ایک دن کے لیے پونہ آیا تھا۔ مگر اس بار پورے آٹھ دن پونہ میں گزرے۔ میں نے سوچا کہ یہی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ کچھ لوگ دنیا میں بہت تھوڑا وقت گزار کر مر جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ تاہم اس معاملہ میں اصل اہمیت مدت کی نہیں ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا سیکھا۔ کبھی زندگی کا ایک لمحہ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ وہ صدیوں پر بھاری ہو جاتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان دنیا میں اگر سو سال تک جیتا ہے۔ مگر اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جیسا آیا تھا ویساہی واپس چلا گیا۔

پونہ سے واپسی کے بعد جو خطوط ملے ان میں سے ایک خط میری لڑکی امِ السلام کا بھی تھا۔ اس نے پونہ کے پروگرام کے بارے میں اخبار میں پڑھا۔ اس کے بعد اس نے ایک خط لکھا جس کا ایک حصہ یہ تھا :

پونہ کے سمینار کا پروگرام مرہٹی اخبار میں آیا۔ اس میں شمع جلاتے وقت آپ کا فوٹو ہے سب کے ساتھ۔ مگر سب سے زیادہ کمزور اور دبلے آپ دکھائی دے رہے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ اور بار بار دل میں یاد آتی رہی کہ سب لوگ کیسے صحت مند ہیں اور میرے ابا کی ایسی حالت۔ اللہ تعالیٰ سے خوب خوب دعا کی آپ کی صحت کے لیے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ آمین۔

میری لڑکی کو مجھے دبلا دیکھ کر تعجب ہوا۔ مگر مجھے اس پر تعجب ہے کہ لوگ موٹے کیوں ہیں۔ اگر لوگوں کو اس حقیقت کا احساس ہو جائے کہ ہر لمحہ وہ ایک ناقابل بیان قسم کے سنگین حادثہ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جس کا نام موت اور قیامت ہے تو لوگوں کا سکون ان سے چھن جائے ۔ قہقہے کی آوازیں بلند نہ ہوں۔ فربہ جسم کے مناظر کہیں دکھائی نہ دیں۔

پونہ کے سفر سے واپسی کے بعد جناب عبد الصمد شیخ صاحب کا ایک خط موصول ہوا جو انھیں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page