Al-Risala · May 1997 · page 49

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹

کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

آپ پونہ میں ۲۳ نومبر کی شام میں آئے۔ سب سے پہلے یعنی اتوار کے دن ۲۴ نومبر کو حاجی یونس میمن کے گھر پہلی مجلس عصر سے عشاء کی نماز تک ہوتی رہی۔ امت محمدی کے کردار کے بارے میں آپ نے جو نئی بات بتائی وہ یہ تھی کہ اس امت کے لیے دہرا اجر کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس کی ذمہ داری بھی ڈبل ہے۔ خود عمل کرنا اور دوسروں تک پیغام پہنچانا۔

۲۸ نومبر کی رات میں بعد نماز عشاء تنظیم والدین اردو مدارس ضلع پونہ کی جانب سے ایک پروگرام ہوا۔ جس میں پہلے ڈاکٹر فریدہ خانم نے اور پھر آپ نے گفتگوفرمائی۔ جس میں مولانا سید نور صاحب نے تلاوت کی جو سورہ بقرہ کی آخری آیات تھیں جس پر آپ نے تقریر کی۔ اس میں اہم بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے خود ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ ہم پر پہلے جیسے لوگوں والا بوجھ نہ ڈال۔ آپ نے اس میں جو بات کہی وہ یہ تھی کہ سیکولرزم نے تاریخ میں پہلی بار اہل توحید کو یہ موقع دیا کہ بغیر کسی خطرے کے اپنے عقائد کی آزادانہ تبلیغ کریں۔ ۲۹ نومبر کی رات، عشاء بعد جناب عبدالغفار عبدالرحمن صاحب کے مکان پر جو نیوایراسوسائٹی گول ٹیکڑی پونہ میں ہے۔ جہاں پر تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے تھے تقریر کی۔ اس میں یہ بات بہت ہی نئی تھی کہ یہود انسان کی رستی پر رہیں گے (آل عمران (۱۱۲) تشریح میں یہ کہا گیا تھا کہ رستی سے مراد کسی کی گارنٹی پر رہیں گے جیسے امریکہ کی۔ اور آج مسلمان بھی اسی طرح کسی نہ کسی کی گارنٹی پر زندہ ہیں۔ یہ چند باتیں جو مجھے یاد تھیں لکھ رہا ہوں۔ ایک بات جو آپ نے خلیفہ کے تعلق سے امام ابن تیمیہ کے حوالہ سے کہی تھی کہ ابن تیمیہ کا فتویٰ ہے کہ خلیفہ اللہ کہنا نا جائز ہے وہ بہت اہم تھی (فتاوی ابن تیمیہ (۴۷۲/۴) ایک بات آپ نے اور کہی وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے نبی کریم کی پیشین گوئی ہے کہ وہ لوگ جو یہاں دین توحید کے لیے کوشش کریں گے ان کا ثواب بہت زیادہ ہو گا۔ یہ بات بھی لوگوں کو بہت اہم معلوم ہوئی۔

جنوری ۱۹۹۷ء کے الرسالہ میں صفحہ ۴۱ پر زکوٰۃ کا مسئلہ کے تحت مدوں کے بارے میں جو تفصیل پیش کی گئی ہے وہ پہلی بار شاید آپ نے ہی پیش کی ہے۔ خاص کر اسلام کی اشاعتی مہم کے بارے میں۔ (عبد الصمد شیخ، پونہ، ۲۴ دسمبر (۱۹۹۷)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page