Al-Risala · January 1997 · page 27

Be realist and ensure your success

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

ہے۔ ان مقامات نام نہاد اسلام پسند جو کچھ کر رہے وہ سراسر بے عقلی ہے، اور بے عقلی کا انجام ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے۔

ایک عیسائی پروفیسر نے کہا کہ ہمارا نظام آپ کے اسلام سے زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ ہمارا نظام فریڈم کے اصول پر قائم ہے۔ ہم ہر ایک کو نکہ کرو عمل کی آزادی دیتے ہیں۔ جب کہ اسلام جبر کے اصول پر قائم ہے۔ دیکھئے، ، ہم ہر جگہ پیس کانفرنس کرتے ہیں، اور مسلمان ہر جگہ گن کلچر چلا رہے ہیں۔

You see, we are holding peace conferences, while Muslims are engaged in gun culture everywhere. میں نے ان صاحب کو ایک وقتی جواب دیا۔ اس کے بعد جب میں اپنے کمرہ میں آیا اور اس پر سوچنا شروع کیا تو میرے دل نے کہا کہ جہاں تک اصولِ اسلام کا تعلق ہے، ان کا اعتراض بلاشبہ غلط ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان عملاً اسلام کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں وہ تو بظاہر ایسا ہی ہے، یہ لوگ غیر مسلموں کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسلام پر مذکورہ قسم کے شبہات وارد کریں۔ پھر مجھے قرآن کی آیت یاد آئی جس میں اہلِ اسلام کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ: رَبَّنَا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين (یونس ۸۵) اس آیت کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ : اے ہمارے رب، ان کو ہمارے اوپر غلبہ نہ دے کہ وہ فخر و ناز میں مبتلا ہو جائیں اور یہ گمان کرنے لگیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں۔ فتنہ یہاں منکرین کا اپنے انکار کے اوپر فخر کرنا ہے۔ (يقول: لا تظهرهم علينا فيعجبوا ويظنو ا | أنهم خير منا ، فالفتنة هُنا اعجاب الكفار بكفرهم ، لسان العرب ۱۴ / ۳۱)

یہ آیت ، براہِ راست طور پر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر صادق آتی ہے جو اپنے آپ کو انقلابی اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ ان کے نام نہاد انقلابی اقدامات نے اسلام کو بدنام کرنے کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔

انڈیا کے کئی لوگ اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کھانے کی میز پر ایک بار ایسا ہوا کہ ایک سوامی جی نے گوشت، مچھلی ، انڈا ہر چیز لینے سے انکار کر دیا۔ اس میز کے گرد بیٹھے ہوئے لوگوں سے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page