Killing of a sensation is sin and vice versa.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵
ان کی بحث شروع ہو گئی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ سوامی جی، آپ گوشت، مچھلی، انڈے کیوں نہیں کھاتے۔ سوامی جی نے کہا کہ ہم جان مارنے کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ غذا ئیں جان مار کر حاصل کی جاتی ہیں۔ انھوں نے ایک بھارتی ودوان کا مشہور مقولہ دہرایا کہ احساس کو مارنا گناہ ہے اور احساس کو زندگی دینا نیکی ہے:
Killing of a sensation is sin and vice versa.
میز پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ سوامی جی، سائنٹفک دور میں تو اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ہر چیز میں زندگی ہے۔ دودھ، سبزی، پانی، حتیٰ کہ ہوا میں بھی زندگی ہے۔ آپ کے لئے اپنے نقطہ نظر کے مطابق اس دنیا میں رہنا ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ اس اصول کے مطابق رہیں تو آپ کسی دوسری جان کو تو قتل نہیں کریں گے، البتہ خود اپنے آپ کو قتل کر لیں گے۔ اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ خود کشی کو ترجیح دیتے ہیں یا، آپ کے الفاظ میں، قتل احساس کو۔ سوامی جی مسکرا کر خاموش ہو گئے۔
کھانے سے فراغت کے بعد سوامی اگنی ویش سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ یہاں کا کھانا آپ کو کیسا لگا۔ انھوں نے کہا کہ میں تو ٹھیک سے کھا نہ سکا۔ میں نے کہا کہ آپ تو اکثر باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں۔ پھر آپ دوسرے ملکوں کے کھانے کے عادی نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میں تو ہر جگہ اپنے کسی ہندوستانی کے یہاں ٹھہر جاتا ہوں۔ وہ مجھے ہندوستانی بھو جن کھلا دیتا ہے۔ مگر یہاں فلارنس میں ایسا کوئی ہندوستانی نہیں ملا۔
ہمارے علماء کا حال بھی یہی ہے۔ وہ باہر جاتے ہیں تو اپنے حلقہ کے کسی مسلمان کے یہاں ٹھہر ناپسند کرتے ہیں۔ وہاں ان کو اپنی پسند کا کھانا اور اپنی پسند کا ماحول مل جاتا ہے۔ مگر اس ذوق کی بنا پر ان کے بیرونی اسفار بڑی حد تک بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسری قوموں سے ان کا اختلاط نہیں ہوتا۔ ان کے نرم اور گرم سے وہ آشنا نہیں ہوتے۔ ان کی تلخیوں کو وہ نہیں چکھتے، چنانچہ بیرونی ملکوں میں جانے کے با وجود عملاً وہ وہاں کے حقیقی حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔ اپنے سے مختلف ذوق اور مختلف سوچ کے لوگوں سے اختلاط (انٹر ایکشن) بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کبھی ذہنی ارتقا نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues