Killing of a sensation is sin and vice versa.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ اختلاط کرتا ہے اور ان کی اذیتوں کو سہتا ہے وہ اس شخص سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ اختلاط نہیں کرتا اور نہ لوگوں کی اذیتوں کو برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں پر یہی حدیث صادق آتی ہے۔
یہاں بہت سے ملکوں کے لوگ آئے ہیں۔ مسلم بھی اور غیر مسلم بھی۔ اکثر ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ جاپان سے بھی کئی لوگ آئے ہیں۔ جاپانی وفد کے قائد کا نام یہ ہے : Most Ven. Kojun Handa Chief Priest, Jourakuji Temple Ueda-city. (Tel. 0268-38-2040, Fax 0268-38-8545)
ان سے دیر تک گفت گو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جاپان میں ۹۰ فیصد بودھ ہیں۔ دوسرے نمبر پر شنتو مذہب کے لوگ ہیں۔ اور تیسرے نمبر پر عیسائی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ہمارے ملک میں بہت کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سو سال پہلے تک مسلم ملکوں سے جاپان کا کوئی ربط ہی نہیں تھا۔ ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میں مسلم ہوں اور قفقاز سے آیا ہوں، وہ انگریزی یا عربی دونوں میں سے کوئی زبان نہیں جانتے تھے۔ اس لئے ان سے زیادہ گفتگو نہیں ہوسکی۔ انھوں نے مجھ کو دیکھ کر سوالیہ انداز میں کہا: پاکستان؟ میں نے کہا کہ انڈیا۔ پھر انھوں نے کہا: Kashmir, Bombay, You? ان کا مطلب غالباً یہ تھا کہ کیا آپ کشمیر یا بمبئی سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میں دہلی سے آیا ہوں۔ اس کے بعد گفت گو ختم ہوگئی۔
ایک نوجوان سے میں نے کہا کہ زندگی میں اصل اہمیت صحیح آغاز کی ہوتی ہے۔ اگر آپ صحیح آغاز کو پالیں تو یقیناً آپ صحیح انجام تک بھی پہنچ جائیں گے۔ اس نے کہا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت لکھ دیجئے ۔ میں نے لکھا: no beginning, no end یعنی اگر آغاز نہیں تو انجام بھی نہیں۔ فلارنس کی کانفرنس کا انتظام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو نے کیا تھا۔ یہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں پسماندہ طبقہ کی فلاح کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، اس معاملہ میں وہ لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues