Al-Risala · January 1997 · page 30

Killing of a sensation is sin and vice versa.

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰

پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ امن کے مقصد کے تحت وہ دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر امن کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ ان کے بعض ذمہ داروں سے میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی کوششوں میں ایک کمی ہے۔ اور اس کمی کی بنا پر آپ کی کوششوں کا زیادہ نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کو نو پر ابلم پیپل کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے وہ جن کو میں پر ابلم پیپل کہتا ہوں۔ نو پر ابلم پیپل وہ سنجیدہ لوگ ہیں جو اپنے مزاج کے اعتبار سے امن پسند لوگ ہیں۔ وہ ٹکراؤ کو پسند نہیں کرتے۔ اس طرح گویا کہ وہ پہلے ہی سے ٹھیک ہیں۔ اس کے مقابلے میں پر ابلم پیپل وہ لوگ ہیں جن کے مزاج میں شدت ہے۔ جو ٹکراؤ کے طریقہ میں یقین رکھتے ہیں۔ جو موجودہ زمانہ کی بے امنی کا اصل سبب ہیں۔ میں نے کہا کہ اب تک آپ لوگوں نے زیادہ تر نو پر ابلم پیپل سے ربط قائم کیا ہے۔ انہیں میں سے کچھ لوگوں کو بلا کر آپ امن کانفرنس کر لیتے ہیں۔ بلاشبہ اس کا بھی ایک فائدہ ہے۔ مگر آپ کو اپنی کوششوں کے دائرہ کو پر ابلم پیپل تک بھی پھیلانا ہوگا۔ جب تک آپ پر ابلم پیپل کو اعتدال پر نہ لائیں امن کی فضا دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔

میں نے مزید کہا کہ اس کا ایک عملی تجربہ میں خود انڈیا میں کر چکا ہوں۔ پچھلے پچاس سال سے انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہورہے تھے۔ مسلمانوں کو ہندوؤں سے سخت شکایات تھیں۔ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں نے قیام امن کی جو کوششیں کیں وہ سب نو پر ابلم ہند و کی سطح پر چلتی رہیں۔ مگر ۵۰ سالہ کوشش کے باوجود اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

۱۹۹۲ میں ہندوؤں کا تشد د مسلمانوں کے خلاف انتہا پر پہنچ گیا جب کہ انھوں نے تاریخی بابری مسجد کو ڈھاکر وہاں ایک مندر بنا دیا۔ اس وقت سے میں نے نئی پالیسی اختیار کی ۔ اب میں نے پر ابلم ہندوؤں کو اپنا مخاطب بنایا۔ ان لوگوں سے تعلقات بڑھائے۔ ان کے اپنے جلسوں میں جاکر ان کو امن اور انسانیت کا پیغام دینا شروع کیا۔ پالیسی کی یہ تبدیلی انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ چند سال کی کوششوں کے نتیجہ میں فضا بدل گئی۔ چنانچہ آج انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن قائم ہو چکا ہے۔ پر ابلم

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page