Killing of a sensation is sin and vice versa.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
ہندونے تخریب کا طریقہ چھوڑکر بھائی چارہ کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ دونوں فرقوں میں لمبی مدت سے جاری غیرمعتدل فضا ختم ہوگئی ہے اور دونوں کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ فرقہ وارانہ جھگڑے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ اس معاملہ میں یہی واحد طریقہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔
۲۲ اکتوبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس فلارنس کے قدیم شاہی محل میں کیا گیا تھا۔ صدیوں پرانا محل نہایت وسیع اور شاندار ہے۔ اس کا غیر معمولی طور پر بڑا ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔
جب میں قیام گاہ سے روانہ ہو کر یہاں پہنچا تو محل کے باہر انسانوں کا ہجوم تھا۔ خصوصی مہمانوں کو دیکھ کر وہ لوگ تالیاں بجاکر ان کا استقبال کرتے تھے۔ میں قریب پہنچا تو راستہ کے دونوں طرف کھڑے ہوئے لوگوں نے پر جوش طور پر تالیاں بجانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو ابل پڑے۔ مجھے آخرت کا لمحہ یاد آگیا جب کہ میں مرکر وہاں پہنچوں گا۔ میرے دل نے کہا ؛ کیا آخرت میں بھی کوئی میرے لئے تالیاں بجائے گا۔ کیا وہاں بھی کوئی ہوگا جو میری آمد پر خوشی کا اظہار کرے ۔ دنیا کی تالیاں کتنی زیادہ بے قیمت ہیں اگر آخرت میں کوئی تالیاں بجانے والا نہ ہو۔
افتتاحی اجلاس میں فلپائن کی خاتون صدر اکینو (Corazon C. Aquino) مہمان خصوصی کے طور پر شریک تھیں۔ میری سیٹ اسٹیج کے عین قریب اگلی صف میں تھی۔ اجتماع کی کارروائی کے دوران میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت میں ایسا کروں کہ کود کر اسٹیج پر پہنچوں اور صدر اکینو سے کہوں کہ اسلام قبول کرو ورنہ تم جہنم میں جاؤگی: Accept Islam, otherwise you will go to hell. تو کیا یہ دعوت کا عمل ہوگا۔ میرے دل نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک مجنو نانہ عمل ہوگا نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا عمل ۔ دعوت یہ نہیں ہے کہ آپ کسی نہ کسی طرح چیخ کر اپنی آواز دوسروں کے کانوں میں داخل کر دیں۔ دعوت کا معیار ، قرآن کے الفاظ میں ، یہ ہے کہ وہ قولا بليغاً في أنفسهم (النساء ٦٣ ) ہو نہ کہ کسی کو لفظی پتھر مارنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues