resistance of evil by the ways of peace
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲
۲۲ اکتوبر کی شام کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں دوسرے ممتاز افراد کے علاوہ خصوصی مہمان کی حیثیت سے فلپائن کی خاتون صدر اکینو اور کئی اہم شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ آخری تقریر صدر اکینو کی تھی۔ انھوں نے تیار شدہ تقریر کو پڑھ کر سنایا۔ یہ انگریزی زبان میں تھی۔ ان کا انگریزی لہجہ نہایت عمدہ تھا۔ تاہم ان کی لمبی تقریر میں صرف ایک بات کی تفصیل تھی۔ فلپائن میں قدیم حکمران مارکوس کے مظالم اور ان کے شوہر (Benigno S. Aquino) کا قتل ہونا اور اس کے بعد خود خاتون کا صدر کے عہدہ پر پہنچنا۔ تاہم اس تقریر میں ایک بات نہایت سبق کی تھی۔ اکینو کے خاندان پر مارکوس نے شدید مظالم کئے۔ حتیٰ کہ ۱۹۸۳ء میں ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ ہم نے مسیح اور گاندھی کی تعلیم کے مطابق یہ طے کر لیا تھا کہ ہمیں تشدد کے مقابلہ میں تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرنا ہے۔ چنانچہ میرے شوہر پر ظلم ہوا تو انھوں نے بہت سنگر اسٹرا ئک کر دی ۔ ان کے قتل کے بعد فلپائن کے عوام کی بڑی تعداد میری حمایت پر آگئی۔ مگر میں نے ہمیشہ پر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی تحریک چلائی۔ یہاں تک کہ مارکوس کو مجبور ہو کر الیکشن کرانا پڑا جس نے ۱۹۸۶ء میں مجھ کو صدارت کے منصب پر پہنچا دیا۔ انھوں نے اپنے طریقہ کو یہ نام دیا برائی کا مقابلہ امن کے طریقوں سے:
resistance of evil by the ways of peace
عجیب بات ہے کہ جس فلپائن میں سنگین مظالم کے باوجود اکینو نے اپنی سیاسی تحریک مکمل طور پر پر امن انداز میں چلائی۔ اسی فلپائن میں مسلم لیڈر تعداد کی قلت کے باوجود مظالم کا نام لے کر ۳۰ سال سے تشدد دانہ انداز میں اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ کامیاب تو نہیں ہوئے۔ البتہ فلپائن کے مسلمانوں کی مشکلات میں انھوں نے سو گنا زیادہ اضافہ کر دیا۔
فلپائن ایک مجمع الجزائر ہے۔ اس میں سات ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے جزیرے شامل ہیں۔ اس کی آبادی تقریباً ۵ کروڑ ہے۔ اس میں پچاسی فیصد عیسائی ہیں۔ مسلمان مجموعی آبادی میں تقریباً پانچ فیصد ہیں۔ تاہم اس کے ایک حصہ میں مسلمان زیادہ بڑی تعداد
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues