Al-Risala · January 1997 · page 33

resistance of evil by the ways of peace

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳

میں آباد ہیں۔ ان کو موروز کہا جاتا ہے۔ یہ نام ان کو اسپینیوں نے دیا تھا۔ فلپائن کا جنوبی حصہ ملایا کے قریب ہے۔ چنانچہ اس حصہ میں ملایا کے علاقہ سے مسلمان جانا شروع ہوئے۔ ان کے اثر سے جنوبی حصہ کے کئی جزائر میں اسلام پھیل گیا۔ مثلاً سولو (Sulu) منڈاناؤ (Mindanao) پالاوار (Palawan) وغیرہ، اس دوران ایک طاقت ور سردار (datu) مسلمان ہو گیا۔ حتیٰ کہ اس علاقہ میں مسلم راجہ کی سلطنت قائم ہوگئی۔ مگر سولہویں صدی کے وسط میں اسپینی آگئے ۔ یہاں ان کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اسپینی غلبہ کے بعد اسلام کی اشاعت کا عمل رک گیا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ اسپینی اگر ایک صدی کے بعد آتے ، یا اگر ان کا محرک صرف اقتصادی ہوتا تو آج پورے فلپائن میں مسلمانوں کی اکثریت ہوتی : Had they come a century later or had their motives been strictly commercial, Filipinos today might be a predominantly Muslim people. (14/241)

فلپائن کے جنوبی علاقہ کے بارہ میں مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں ان کی اکثریت ہے۔ جب کہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد نصف سے کچھ کم ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس علاقہ میں علیحدہ مسلم حکومت قائم کرنے کی تحریک اٹھی۔ یہ صدر مارکوز کا زمانہ تھا جن کی صدارت ۱۹۶۶ سے ۱۹۸۶ تک رہی ہے۔ مارکوز کا کہنا تھا کہ مسلمان اگر پولیٹیکل انڈینڈی ننس کا مطالبہ نہ کریں تو ہم ان کو تمام دوسری آزادیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔ مگر مسلم لیڈر راضی نہیں ہوئے۔ اس کے نتیجہ میں حکومت نے ان پر سخت ترین مظالم ڈھائے۔ آخر کار اب مسلمان مجبور ہو کر خاموش ہو رہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں شیخ مصطفیٰ بن احمد العلوی (رئیس جمعیة علماء المغرب والسنغال) نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے عربی میں لکھی ہوئی ایک تقریر پڑھی ۔ اس میں اسلام کو امن و سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔

ایران کے ایک صاحب سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ وہ تہران یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر ہیں۔ ان کی تعلیم امریکہ میں ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ نہایت عمدہ انگریزی بول رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page