Al-Risala · July 1997 · page 18

آدم کی تخلیق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸

آدم کی تخلیق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ساری کائنات خداکی تسبیح کررہی ہے (الجمعہ ۱)، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام کائناتی چیزیں کامل طور پر خدا کے آگے مسخر ہیں۔ وہ ادنی انحراف کے بغیر اس کی مرضی کی تعمیل کر رہی ہیں۔

کائنات کی یہ تسبیح تبع تکوینی ہے۔ کائنات کی تسبیح اپنے آزاد ارادہ کی بنا پر نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی محکم تقدیر کے تحت ہے۔ کائنات وہی کرتی ہے اور وہی کر سکتی ہے جو اس کے لئے پیشگی طور پر مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس کے پاس نہ آزاداختیار ہے اور نہ اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے آزادانہ اختیار کے تحت کوئی عمل کرے اب خدا کو منظور ہوا کہ ایک ایسی مخلوق ہو جو خود اپنے اختیار کے تحت خدا کی تسبیح کرے ۔ اسی اختیاری تسبیح کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا۔ انسان کو وہی دین اپنی آزاد مرضی کے تحت اختیار کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات مجبورانہ طور پر اختیار کئے ہوئے ہے۔ اختیاری تسبیح کے اس مقصد کے لئے پہلے جنات کو پیدا کیا گیا تھا۔ اور ان کو زمین پر بسایا گیا تھا۔ مگر جنوں نے سرکشی کی۔ انھوں نے زمین پر فساد کیا۔ چنانچہ انھیں معزول کر دیا گیا اور زمین ان کے قبضہ سے لے لی گئی۔

جن کا تخلیقی مادہ آگ تھا۔ آگ میں طاقت زیادہ ہے۔ مگر اس میں سرکشی بھی زیادہ ہے۔ اب خدا نے انسان کی صورت میں ایک اور مخلوق پیدا کی جس کا مادہ تخلیق مٹی تھی۔ مٹی میں طاقت کم ہے مگر اسی کے ساتھ اس میں سرکشی بھی کم ہے۔ آگ شدت کی نمائندہ ہے اور مٹی نرمی اور اعتدال کی نمائندہ۔

انسان چوں کہ جن کے بعد آیا تھا اس لئے اس کو خلیفہ کہا گیا۔ یعنی سابق ساکنان ارض کی جگہ آنے والا۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو جنت میں بسانے کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ جنت انسان ہی کے لئے ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ تسبیح اختیاری کا ثبوت دے اور اس کے انعام کے طور پر جنت کی پر راحت دنیا میں آباد رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page