Al-Risala · July 1997 · page 19

آدم کی تخلیق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۹

انسان کی پیدائش پر فرشتوں کا اشکال اس لئے تھا کہ انھوں نے انسان کو جنات پر قیاس کیا۔ انہوں نے سمجھا کہ آ نہ دسی پا کر جب پہلی مخلوق سرکش ہوگئی تو نئی مخلوق بھی ضرور اسی طرح سرکش ہو جائے گی۔ اس وقت خدا نے عملی مظاہرہ کر کے فرشتوں کو بتایا کہ آتشیں مخلوق کے مقابلہ میں یہ خاکی مخلوق مختلف ہوگی۔ اگر چہ ان میں بھی بہت سے سرکش لوگ نکلیں گے لیکن اسی کے ساتھ ان میں ایسے قیمتی افراد بھی نکلیں گے جو ساری مخلوقات کے لئے قابل رشک قرار پائیں ۔

خدا نے جب انسان کو جنت میں بسایا تو فرمایا کہ یہاں کی ہر راحت تمہارے لئے ہے۔ البتہ فلاں درخت کا پھل تم نہ کھانا۔ اس سے مکمل طور پر پر ہیز کرنا۔ بائبل میں اس کو اچھے اور برے کے علم کا درخت (tree of the knowledge of good and evil) کہا گیا ہے۔ یہاں درخت کا لفظ تمثیلی معنی میں ہے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں قیام کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ متقیانہ (پرہیزگاری کی زندگی ہے۔ یعنی یہ کرو اور وہ نہ کرو کے بارہ میں تم کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند رہنا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا تو خدا کی مدد تم سے اٹھ جائے گی ۔ اور تم اسی طرح محروم ہو جاؤ گے جس طرح کسی ملبوس آدمی کو اچانک ننگا کر دیا جائے۔ اس بات کو قرآن میں مختلف انداز سے بار بار بتایا گیا ہے۔ مثلاً فالهمها فجورها وتقواها (الشمس (۸) یعنی انسان کو یہ سمجھ عطا کی کہ کیا چیز اس کے لئے بری ہے اور کیا چیز اچھی اس سے مراد نیکی اور بدی کا وہ وجدانی شعور ہے جو پیدائشی طور پر ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

شیطان کے بہکاوے پر آدم نے جب ممنوعہ درخت کا پھل کھایا ، بالفاظ دیگر، وہ خدا کی قائم کی ہوئی حد پر برقرار نہ رہ سکے تو ظاہر ہو گیا کہ صرف ہدایت نامہ دے کر انسانوں کو جنت میں داخل کرنا کافی نہیں۔ آدم تمام انسانیت کے نمائندہ تھے ، ان کی لغزش نے ثابت کیا کہ اس معاملہ میں عمومی داخلہ کے بجائے انتخاب کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ اب یہ منصوبہ بنایا گیا کہ تمام انسانوں کو باری باری جنت کے باہر پہلے زمین پر آباد کیا جائے۔ یہاں زندگی کے مختلف احوال میں ڈال کر ہر ایک کی جانچ کی جائے۔ اور پھر جو افراد

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page