آدم کی تخلیق
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ آزادانہ ماحول میں بھی وہ تسبیح اختیاری کے معیار پر قائم تھے۔ ان کو منتخب کر لیا جائے اور صرف انھیں کو جنت کی معیاری دنیا میں داخلہ دیا جائے۔ گویا پہلے جنت کا داخلہ عمومی تھا ، اب جنت میں داخلہ کو انتخابی بنا دیا گیا۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی جو اصل اسکیم ہے وہ یہی ہے کہ ہر آدمی کو محدود مدت کے لئے دنیا کی آزمائش گاہ میں رکھا جائے۔ یہاں اس پر مختلف قسم کے احوال گزریں۔ پھر جو آدمی یہ ثبوت دے کہ تمام احوال سے اوپر اٹھ کر اس نے خدا پرستی کی زندگی گزاری، اور اس طرح اپنے کو جنت کا مستحق ثابت کیا۔ صرف ایسے ہی لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے ۔ اور بقیہ تمام لوگوں کو اسی طرح رد کر دیا جائے جس طرح کارخانوں میں ناقص پیدا وار رد کر دی جاتی ہیں۔ پیشگی طور پر جنت میں بسانا بھی اس اسکیم کا ایک اہم جزو تھا۔ اس طرح گو یا انسان کو وہ قیمتی جنت پہلے ہی دکھا دی گئی جس کی خاطر اس سے یہ قربانی مطلوب تھی کہ وہ دنیا کی ترغیبات کے درمیان رہتے ہوئے اپنے آپ کو جنت کا طلب گار بنائے رکھے۔
آدم انسان اول بھی تھے اور پوری انسانیت کے نمائندہ بھی ، ان کو جنت کے مناظر براہ راست دکھاديےگئے۔ اس کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں جنت کا تصور، پیدائشی اور وراثتی طور پر ڈال دیا گیا۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں جینیک تسلسل کہا جاتا ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک آئیڈیل دنیا کا تصور بسا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر آدمی نے اپنے لاشعور میں ایک جنت کو آباد کر رکھا ہے۔ یہی تصور جنت آدمی کو ایک ایسا گول دیتا ہے جو اس کو مسلسل متحرک رکھتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ قرآن (محمد ۶ ) میں ہے کہ اللہ اپنے صالح بندوں کو جس جنت میں داخل کرے گا وہ وہی جنت ہوگی جس کی انہیں پہچان کرا دی ہے (عرفھا لهم)
اب سوال یہ ہے کہ انسان کو اس جنت کی پہچان کہاں اور کب کرائی گئی ۔ جواب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی پہچان ہے جب کہ آدم کو جنت میں داخل کرکے اس کا مشاہدہ کرادیا گیا۔ انسان اول نے اس جنت کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا ۔ بعد کی انسانی نسلوں کو جینیک کوڈ کی صورت میں وراثتی طور پر اس سے متعارف کرایا گیا ۔ پہلے انسان کے لئے جنت کا تعارف ایک شعوری واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues