resistance of evil by the ways of peace
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴
۲۳ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ہم لوگ ساتھ تھے۔ میں نے پوچھا کہ کچھ اسکالرس نے لکھا ہے کہ اسلامی فلاسفہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں:
There is no Islamic philosophy, in the true sense of the word. ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلامی فلسفہ کی اساس مقدس متن (ٹیکسٹ) پر ہے۔ یہ فلسفہ کے بنیادی تصور کی نفی ہے۔ کیوں کہ فلسفہ اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے وہ ہے جو عقل انسانی پر مبنی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ اسلامی فلسفہ تو نہیں ہے ، البتہ مسلم فلسفہ ضرور ہے۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ دوبارہ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں میں جو فلسفی پیدا ہوئے، وہ اپنے اسلامی عقیدہ سے آزاد نہ تھے۔ ان کا فلسفہ بھی بنیادی طور پر اسلامی عقیدہ ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ انھوں نے اس کو مانتے ہوئے کہا کہ ہاں، انھوں نے فلسفہ کو اسلامائز کیا۔
پھر میں نے کہا کہ مگر خود مغرب کے فلسفہ کو بھی اس سے مستثنی نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ بھی کہیں نہ کہیں جا کر اپنے مسیحی عقیدہ سے متاثر نظر آنے لگتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے۔ انھوں نے ہیگل کی مثال دی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا فلسفہ مسیحی عقیدہ کا فلسفیانہ اظہار تھا۔
ناشتہ کے آخر میں میں نے چند جملے فارسی میں کہے۔ میں نے کہا : شما فارغ شدید۔ انھوں نے کہا: از چہ۔ میں نے کہا از چائے۔ انھوں نے کہا بلے ۔ اور پھر ہم لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
۲۳ اکتوبر کو پانچ مختلف ہالوں میں پانچ الگ الگ پروگرام تھے۔ میں نے اس ہال کا انتخاب کیا جس میں افریقہ کا موضوع رکھا گیا تھا۔ اس کے چھ مقررین میں سے ایک احمد بن بیلا بھی تھے، جو الجیریا کے سابق پریزیڈنٹ رہ چکے ہیں۔
اس پروگرام کو سننے کے لئے اندر پہنچا تو معلوم ہوا کہ مقررین اطالوی یا فرانسیسی زبان میں تقریر کریں گے۔ وہاں اتفاق سے عربی یا انگریزی میں ترجمہ کا انتظام نہ تھا۔ میرے گائیڈ ایک خاتون کو لائے جو اطالوی زبان جانتی تھیں ۔ وہ میرے قریب کی کرسی پر بیٹھ کر مجھے تقریر کا مفہوم بتاتی رہیں ۔ اس کے بعد جب فرانسیسی تقریر شروع ہوئی تو ان کے لئے بھی مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیوں کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues