Al-Risala · July 1997 · page 21

آدم کی تخلیق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱

تھا۔ دوسرے انسانوں کو لاشعور کے تحت یہ تعارف حاصل ہوا۔

لاشعور میں بسی ہوئی اس جنت یا اس آئیڈیل دنیا کو عام آدمی اکثر موجودہ زندگی کی رونقوں سے وابستہ کرتا ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر جب وہ اس کو حاصل کر لیتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ اس کے تصورات سے کم تر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک معیاری دنیا ہے اور موجودہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا۔ غیر معیاری دنیا کبھی معیاری دنیا کا بدل نہیں بن سکتی اس لئے موجودہ دنیا کا پانا کسی کے لئے حقیقی اطمینان کا باعث بھی نہیں بنتا۔

سجدہ آدم کا جو واقعہ ہے جس میں فرشتوں نے اور ابلیس نے دو الگ الگ کردار ادا کیا ، وہ انسانی آزمائش کے اصولی نکتہ کو بتاتا ہے۔ ابلیس نے جب آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تو اس کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ میں اس سے بہتر ہوں ( انا خیر منہ ) اس کو یاد نہیں رہا کہ مسئلہ بہتر اور کمتر کا نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم کا ہے۔ جہاں خدا کا حکم آجائے وہاں بظاہر ایک برتر کو بھی اپنے سے کم تر کے آگے جھکنا ہے۔ ایسا نہ کرنا کبر کا مظاہرہ کرنا ہے ، اور کبر خدا کی نظر میں سب سے بڑا جرم ہے۔

یہی آزمائش کا بنیادی نکتہ ہے۔ جس طرح خدا نے ابلیس کو آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا ، اسی طرح خدا کا حکم ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں تواضع کی روش اختیار کرے۔ ہر انسان صاحب حق کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے ۔ ہر انسان فخر و ناز اور کبرو برتری کی نفسیات سے آخری حد تک اپنے آپ کو پاک کرلے۔

جنت میں داخلہ کی یہی بنیادی شرط ہے۔ تاہم انسان کی رعایت کرتے ہوئے توبہ کا طریقہ بھی رکھ دیا گیا۔ یعنی آدمی اگر کسی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا جذ بہ ابھرنا چاہئے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کر کے دوبارہ صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page