Al-Risala · July 1997 · page 22

ڈو انسان

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲

ڈو انسان

مسیلمہ کذاب (م ۱۲ھ) نجد کے علاقہ میں یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس مقام کو اب جُبَیلہ کہا جاتا ہے۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ، اسی لیے وہ کذاب (جھوٹا) کہا جاتا ہے۔ عربی میں مثل ہے : اکذب من مسیلمہ ۔ یعنی مسیلمہ سے بھی زیادہ جھوٹا۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمروبن العاصؓ نے یمامہ جاکر مسیلمہ سے ملاقات کی مسیلمہ نے پوچھا کہ تمہارے صاحب پر حال میں اترنے والی وحی کیا ہے۔ عمروبن العاص نے کہا کہ آپؐ پر ایک سورہ اتری ہے جو نہایت مختصر اور نہایت بلیغ ہے۔ اس نے پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ عمروبن العاص نے اس کو سورہ العصر سنائی :

والعصر - ان الانسان لفی خسر - الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ اس کو سن کر مسیلمہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد بولا کہ میرے اوپر بھی اسی قسم کا کلام اترا ہے۔ عمروبن العاص نے پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ مسیلمہ نے حسب ذیل الفاظ سنائے :

يا وبر يا و بر و انما انت اذنان و صدر وسائرك حفر ونقر ۔

اس کے بعد اس نے پوچھا کہ اے عمرو، تمہارا کیا خیال ہے۔ عمروبن العاص نے جواب دیا : خدا کی قسم، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تم کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تفسیر ابن کثیر م/ ۴/ ۵) مسیلمہ کو معلوم تھا کہ اس کے یہ الفاظ بالکل لغو ہیں۔ مگر اس نے نعوذ باللہ قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے ان کو موزوں کر کے سنایا۔ اب دوسری مثال لیجیے۔ یہ سورہ العصر مکہ میں نازل ہوئی تھی، جب وہ اتری تو بعض صحابہ نے اس کو ایک تختی پر لکھا اور اس کو کعبہ کی دیوار پر آویزاں کر دیا۔ اس کے بعد مختلف لوگوں نے اس کو پڑھا۔ انھیں میں سے ایک لبید بن ربیعہ العامری (م ۴۱ھ) ) تھے ۔ وہ بھی نجد کے علاقہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں ہوتا ہے۔ بعد کو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت کر کے اسلام قبول کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اسلام سے ان کا پہلا تاثر سورہ العصر کے ذریعہ ہوا تھا، وہ مکہ آئے اور کعبہ کی دیوار پر لکھی ہوئی مختصر سورہ العصر کو پڑھا۔ ان پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ جوش میں آکر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page