Al-Risala · July 1997 · page 23

ڈو انسان

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳

اُسی وقت کعبہ کا طواف کرنے لگے۔ آخر میں انھوں نے کہا: واللہ ماھذا من کلام البشر (خدا کی قسم ، یہ کسی انسان کا کلام نہیں)

اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ وہ عرب کے ایک ممتاز شاعر تھے مگر انھوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ شاعری کیوں چھوڑی تو جواب دیا : ابعد القرآن کیا قرآن کے بعد بھی) اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے صرف ایک شعر کہا: ( ترک الشعر فلم يقتل فى الاسلام الا بيتا واحداً ) الاعلام ۲۳۰/۵ ایک ہی واقعہ ایک شخص کے لیے گمراہی کا سبب بن گیا اور دوسرے آدمی کو اسی سے ہدایت مل گئی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے ، اور وہ انانیت ہے۔ مسیلمہ اپنے سینہ میں انانیت لیے ہوئے تھا۔ وہ اپنے کو سب سے بڑا سمجھتا تھا۔ وہ خود اپنی ذات میں گم تھا، اس لیے وہ حق کو دیکھنے سے محروم رہا۔ اس نے اپنے آپ کو جانا، اور اس کی ذات کے باہر جو زیادہ بڑی حقیقت تھی اس کا ادراک کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس معاملہ لبید کا تھا۔ وہ حق کو سب سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کا سینہ خود پسندی سے پاک تھا۔ وہ ذاتی مصالح سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس بنا پر جب حق آیا تو فوراً وہ اس کو پہچان گئے، اور اپنے آپ کو فوراً اس کے حوالے کر دیا۔ اس دنیا میں سب سے بڑا جرم حق کا انکار ہے ، اور سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف۔ پہلی چیز آدمی کو جہنم میں لے جاتی ہے، اور دوسری چیز اس کو جنت کا مستحق بنادیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page