Al-Risala · July 1997 · page 29

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹

کی لبرلائزیشن کی پالیسی سے کیا آپ لوگ متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبرلائزیشن اصولی طور پر تو درست ہے۔ مگر حکومت کو اسی کے ساتھ ملکی صنعتوں کو انفراسٹرکچر (بجلی، پانی، سڑک وغیرہ) بھی فراہم کرنا چاہئے۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ باہر کی کمپنیوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ مثلاً ان کے سارے کام ایک "ونڈو" پر ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم کو دسیوں ونڈو پر لائن لگانا پڑتا ہے۔ یہ تو کاپیٹیشن نہیں ہے۔ یہ تو ایک کو پیچھے کرکے دوسرے کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔

"راجستھان" کا عام تصور یہ ہے کہ وہ ریگستانی علاقہ ہے۔ راجستھان کی علامتی تصویروں میں اکثر اونٹ اور صحرا دکھایا جاتا ہے۔ مگر مجھے ائیرپورٹ سے بھیل واڑہ تک کہیں صحرا اور ریگستان نظر نہیں آیا۔ سڑک کے دونوں طرف درخت اور سبزہ اور کھیت کے مناظر تھے. میں نے ساتھیوں سے اس کا ذکر کیا تو مسٹر برلانے کہا کہ میں ایک بار ٹرین سے دہلی سے بھیل واڑہ آ رہا تھا۔ راستہ میں ایک خاتون کے ساتھ ان کا بچہ تھا۔ سفر کرتے ہوئے جب ہماری ٹرین راجستھان میں داخل ہوئی تو لڑکے نے اپنی ممی سے کہا : ممی، راجستھان تو آگیا۔ مگر وہ ریگستان کہاں ہے؟ ۔

مسٹر برلانے کہا کہ اصل یہ ہے کہ راجستھان کے صرف ایک علاقہ میں ریگستان ہے۔ مگر ایسا چوں کہ دوسری ریاستوں میں نہیں ہے اس لئے راجستھان کی پہچان ریگستان بن گیا۔ اس غلطی کا تعلق صرف راجستھان سے نہیں۔ اکثر معاملات میں لوگ اس قسم کی غلطی کرتے ہیں، وہ جزئی پہلو کو کل کی پہچان بنا لیتے ہیں۔

راجستھان کا قدیم نام راجپوتانہ تھا۔ برٹش دور میں یہاں اٹھارہ ریاستیں تھیں۔ جہاں راجپوت راجہ راج کرتے تھے۔ اس لئے اس کا یہ نام پڑا۔ ۱۹۴۷ میں آزادی کے بعد ریاستیں ختم ہو گئیں اور اس کا مجموعی نام راجستھان رکھ دیا گیا۔

اس علاقہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں کھدائی میں مٹی کے کچھ برتن ملے ہیں۔ کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی تاریخ ۲۰۰۰ قبل مسیح تک جاتی ہے۔ سولھویں صدی میں یہاں طاقت ور راجپوت سلطنت قائم تھی۔ لیکن رانا سنگرام سنگھ (سانگا) اور بابر کی لڑائی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page