resistance of evil by the ways of peace
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۵
فرانسیسی نہیں جانتی تھیں۔ انھوں نے فوراً یہ کیا کہ معاون آلہ اپنے کان میں لگالیا۔ اب وہ خود مقرر کی تقریر کا اطالوی ترجمہ سن رہی تھیں اور میرے لئے اس کا انگریزی ترجمہ کرتی جاتی تھیں۔ میں نے سوچاکہ انسان کا ذہن بھی کیسا عجیب ہے۔ وہ ہر مسئلہ کا فوری حل دریافت کر لیتا ہے۔ فطرت کے اس قیمتی عطیہ سے صرف وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو مسئلہ پیش آنے کے بعد تدبیر تلاش نہ کریں۔ بلکہ فریاد و ماتم میں لگ جائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں محرومی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
کانفرنس کے تمام اجلاس کی ویڈیو ریکارڈنگ ہورہی تھی اور عین اسی وقت وہ ہال میں رکھے ہوئے وی سی آر پر لوگوں کو دکھائی بھی جارہی تھی۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچاکہ لمحہ لمحہ کی یہ تصویر کشی اور ریکارڈنگ اس حقیقت کا ایک علامتی اعلان ہے کہ اسی طرح خدا کے برتر انتظام کے تحت ہر انسان کی لمحہ بہ لمحہ ریکارڈنگ ہورہی ہے۔ یہ پورا ریکارڈ خدا کے خزانہ میں محفوظ ہے۔ آخرت میں وہ ہر شخص کے اعمال نامے کی صورت میں ہر ایک کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ افریقی مقررین کی تقریریں سننے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہاکہ ہر مقرر نے صرف افریقہ کے مسائل بیان کئے اور بیرونی طاقتوں کی شکایت کی کہ وہ ان مسائل کے حل میں ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی تقریر کوئی تقریر نہیں ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم خود اپنے آپ میں مشغول ہے۔ کسی کو یہ فرصت نہیں کہ وہ آپ کے لئے دوڑے یا آپ کے مسائل حل کرے۔
پھر میں نے کہا کہ اس قسم کی تمام تقریریں غیرفطری ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں پرابلم کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ پرابلم کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ اب حل یہ ہے کہ پرابلم کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ لوگ صرف دو چیز جانتے ہیں۔ پرابلم اور سولیوشن۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسری چیز بھی ہے۔ اور وہ مواقع (opportunities) ہیں۔ لوگ اپنے ثنائی طرز فکر کی وجہ سے، ہمیشہ پرابلم اور سولیوشن میں الجھے ہوتے ہیں۔ اگر وہ جانیں کہ یہاں ایک تیسری چیز (مواقع) بھی موجود ہیں۔ تو وہ فوراً مواقع کو استعمال کرکے اپنے مسائل کو حل کر لیں۔ میں نے کہا کہ مشہور مقولہ ہے کہ When there is a will there is a way اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues