This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶
ہے جو بہت چھوٹی مائناریٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ملک کا جو کانسٹی ٹیوشن بنا وہ تمام تر ہندو افراد ہی کا بنایا ہوا تھا۔ مگر اس میں ملک کے شہری کو ہندو نہیں کہا گیا۔ بلکہ انڈین (یا ہندوستانی) کہاگیا۔ آپ جب تک کانسٹی ٹیوشن میں ترمیم نہ کرلیں آپ کو ایسا کہنے کا حق نہیں ہے۔
سوال: ایسا کہا جاتا ہے کہ بھارتیہ مسلم آج بھی راشٹر کی مکھیہ دھار اتھاس سے کٹا ہوا ہے۔ تتھاس کی کیا وجہ ہے۔ آپ ایسا مانتے ہیں۔ انھیں کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ ہری کرشن رام چندانی) جواب: میں اس کو نہیں مانتا کہ مسلمان کسی فیصلہ کے تحت نیشنل مین اسٹریم سے کٹا ہوا ہے۔ جو واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ نکمے قسم کے مسلم لیڈروں نے جذباتی تحریکیں چلا کر مسلمانوں کو تعلیم میں پیچھے کر دیا۔ اس پچھڑے پن کی وجہ سے مسلمان ملک کی عمومی سرگرمیوں میں جڑ نہیں پاتے۔ اس بنا پر وہ کارنر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگر مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو اپنے آپ وہ تمام ملکی سرگرمیوں میں شریک ہو کر مین اسٹریم میں دکھائی دینے لگیں گے ۔
سوال: ہندوستان کے مسلم سماج میں ابھی بھی یہ ابھیمان بنا ہوا ہے کہ ہم نے بھارت ورش پر راج کیا۔ اسی انک کے کارن وہ بھارتیہ سنسکرتی میں گھل مل نہیں پائے ہیں۔ اس بارہ میں آپ کے کیا وچار ہیں۔ اس کمی کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ (رام کمار چرچانی) جواب: میں سمجھتا ہوں کہ "مسلم سماج" میں یہ ابھیمان نہیں ہے۔ البتہ کچھ نام نہاد مسلم دانشوروں میں ضرور یہ ابھیمان پایا جاتا ہے اور وہ اس قسم کی بولیاں بولتے رہتے ہیں۔ مگر مسلم سماج میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔ اور حالات کا رخ بتاتا ہے کہ ایسی سوچ کے لوگ بہت جلد تاریخی میوزیم کا حصہ بن کر رہ جائیں گے۔
سوال: کوئی بستی ہندو بستی نہیں۔ پھر کوئی بستی مسلم بستی کیوں (سنجیو اگروال) جواب: میرے جاننے میں کسی بستی کا نام مسلم بستی نہیں ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی بستی میں سب مسلمان ہوں تو اس کو کوئی مسلم بستی کہنے لگے۔ اسی طرح کسی بستی میں سب ہندو ہوں تو اس کو کوئی شخص ہندو بستی کہنے لگے۔
سوال: انتر راشٹریہ استرے دیکھا جائے تو آج ساپر دائے واد کا زہر ہندوستان میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues