This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷
ہی زیادہ دکھ ہوتا جارہا ہے، ایسا کیوں (نام درج نہیں)
جواب: اس کا سبب ہندوستان کا تعلیم میں پچھڑا پن ہے۔ مزید یہ کہ قوموں میں اس طرح کی خرابیاں ہمیشہ انٹرایکشن نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں ہندوستان کا انٹرایکشن دوسری قوموں سے ہونا تھا۔ آزادی کے بعد نہرو کی" پروٹیکشن" کی پالیسی نے یہ انٹرایکشن ختم کر دیا۔ اسی کے یہ سب نتائج ہیں۔ اب نئی سرکاری پالیسی کے تحت دوبارہ ہندوستانیوں کا انٹرایکشن دوسری قوموں کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اپنے آپ یہ برائی ختم ہو جائے گی۔
سوال: کیا دور درشن یا آکاش وانی سے ایکتا کے نعرے لگانے سے راشٹریہ ایکتا ہو سکتی ہے۔ بدیسی نہیں تو دونوں ورگوں میں بھائی چارہ کی نیو مضبوط کرنا ہے تو ملاؤں تنھا سنتوں کو نیترت کرنا ہے تو کون پر یہ رنا دے گا۔ کہیں نہ کہیں دو ش ورگوں کا ہے۔ اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے (نام درج نہیں)
جواب: دور درشن اور آکاش وانی کے پروگراموں سے قومی ایکتا نہیں آسکتی۔ اس کے لئے سچی کوشش ضروری ہے۔ اور یہ سچی کوشش مذہبی اور روحانی لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ماضی میں صوفیوں اور سنتوں نے ہی میل ملاپ کی فضا بنائی تھی، آج بھی وہی لوگ ایسا کر سکتے ہیں۔ سوال: ایسا کیوں ہے کہ بھارت میں کئی ورگوں کے ہوتے ہوئے بھی ساپر دایک تناؤ صرف دو ورگوں ہی میں پھیلتا ہے۔ کیا اس کا کارن مسلم ورگ کی شاشک منو ورتی ہے یا دھارمک کٹر پن۔ ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے مسلم ورگ کو ہزار ورش ہونے کے باوجود سنگھرش کو منو ورتی کیوں ہے۔ (نام درج نہیں)
جواب: اس کا صحیح جواب وہ ہے جو ہمایوں کبیر نے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان میجارسٹی کمیونٹی کے مقابلہ میں نیکسٹ ٹو میجارسٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی نفسیات ہے جس کو ہندی میں ترپریا کہا جاتا ہے۔ بھائی بہن اگر تر پریا ہوں تو ان میں نوک جھونک ہوتا رہتا ہے۔ یہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے ساتھ ہورہا ہے۔ تاہم بھائی بہن جب بڑے ہو جائیں تو یہ نفسیات ختم ہو جاتی ہے۔ ہندو اور مسلمان تعلیم کی کمی کی بنا پر
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues