This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸
ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے۔ تعلیم بڑھنے کے بعد جب دونوں کا شعور پختہ ہوگا تو یہ حالت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔
۳۱ مارچ کی شام کو چار بجے سوچا کیندر (انفارمیشن سنٹر) کے ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ تقریباً سبھی اخباروں کے نمائندے یہاں موجود تھے۔
بہت سے سوالات کئے گئے۔ اکثر ٹیڑھے قسم کے سوالات تھے۔ مگر میں نے تمام سوالوں کا جواب بالکل ٹھنڈے انداز میں دیا۔ پریس کانفرنس کی رپورٹ ، نیز پبلک میٹنگ کی رپورٹ یہاں کے تمام اخباروں میں شائع ہوئی۔
پریس کانفرنس میں ایک ہندو جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آجکل دیکھا جا رہا ہے کہ مندر اور مسجد دونوں جگہ جانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فرقوں کی مذہبی کٹرتا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مسئلہ کا حل آپ کے نزدیک کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ مندر اور مسجد میں جانے کا کوئی تعلق کٹرتا سے نہیں ہے۔ وہاں جانے والے من کی شانتی یا روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آج ہی کی مثال لیجئے۔ آج میں نے جمعہ کی نماز یہاں کی اسٹیشن والی مسجد میں پڑھی۔ دو ہندو بھائی اپنی گاڑی پر مجھ کو وہاں لے گئے تھے جو اس پریس کانفرنس میں اب آپ کے سامنے موجود ہیں۔ آپ ان سے پوچھ لیجئے۔ جب میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا تو سیکڑوں مسلمان مجھ سے مصافحہ کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے۔ حالانکہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں کٹرتا کے خلاف ہوں۔ اگر وہ لوگ مسجد سے کٹرتا کا سبق لے کر نکلتے تو کبھی بھی مجھ سے ملنے کے لئے اس طرح نہ دوڑ پڑتے۔
میں نے کہا کہ مذہبی کٹرتا کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو سرے سے مذہبی ہی نہیں ۔ وہ اپنے سیاسی انٹرسٹ کے لئے مذہب کا ایکسپلاٹیشن کر رہے ہیں۔
۳۱ مارچ کی شام کو ساڑھے سات بجے یہاں کے ٹاؤن ہال میں پر وگرام تھا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ ضلع کلکٹر سے لے کر تاجر اور وکیل اور ڈاکٹر اور پروفیسر تک سبھی لوگ جمع تھے ۔ اس میں اصل تقریر میری ہی تھی۔ اور اسی پروگرام کے لئے مجھے یہاں بلایا گیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues