This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹
میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ملک کو امن اور ترقی کی طرف لے جانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ کسی قوم کے دانشور قوم کا ذہن بنانے والے (opinion makers) ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے دانشوروں نے اس معاملہ میں صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے رہے ۔ لوگوں میں صحیح سوچ نہیں ابھری۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۱ء میں انڈیا نے شیخ مجیب الرحمان کا ساتھ دیا اور پاکستان ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو پاکستان کے دانشوروں نے اپنی قوم میں انتقام کی آگ بھڑکانا شروع کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انڈیا سے اس کا بدلہ لینا ہے۔ چنانچہ انھوں نے کشمیر کے علاحد گی پسند عناصر کی ہمت افزائی کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۹ میں باقاعدہ طور پر وہاں گن کلچر چلوا دیا۔ ایسا ہی کام ہندو دانشوروں کے ایک طبقہ نے کیا۔ انھوں نے بابری مسجد کے معاملے میں ہندو قوم کو یہ بتایا کہ یہ تمہارے لئے دوسری ہار (second defeat) کا مسئلہ ہے ۔ ۱۹۷۲ء میں تم کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہار ہوئی تھی۔ اب دوسری ہار تم کو ہار پر راضی نہیں ہونا ہے۔ دونوں فرقوں کے دانشوروں کو وہ کرنا چاہئے تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی دانشوروں نے کیا۔ امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جب ہیروشِیما کو تباہ کیا تو جاپانی انتقامی نفسیات سے بھڑک اٹھے۔ اس وقت جاپانی دانشوروں نے اپنی قوم سے کہا کہ ۱۹۲۱ میں ہم نے امریکہ کے پرل ہار پر کو تباہ کیا تھا، انھوں نے ۱۹۲۵ میں ہمارے ہیروشیما کو تباہ کر دیا۔ معاملہ برابر ہوگیا ۔ اب ماضی کے انتقام کو چھوڑ کر مستقبل کی تعمیر کی فکر کرو ۔ اس طرح جاپانیوں کو عمل کا صحیح تعمیری رخ مل گیا ۔
اسی طرح پاکستانی دانشوروں کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم نے ۱۹۷۲ میں ان کے ملک کو توڑا تھا، انھوں نے ۱۹۷۱ میں ہمارے ملک کو توڑ دیا۔ معاملہ برابر ہو گیا۔ اسی طرح ہندستانی دانشوروں کو کہنا تھا کہ ۱۹۷۲ میں انھوں نے ہمارے ملک کو بٹایا تھا جس کا ہمیں غم تھا ، ۱۹۷۱ میں ہم نے ان کے ملک کو دو حصے کرکے معاملہ برابر کرلیا۔ اب اس بات کو چھوڑو اور تعمیر و ترقی کی طرف دھیان لگاؤ۔ مگر بدقسمتی سے دونوں میں سے کسی ملک میں بھی جاپان جیسے دانشور نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues