Al-Risala · July 1997 · page 40

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۰

ابھرے۔ اس لئے ہم جاپان کی طرح ترقی بھی نہیں کرسکے۔

یکم اپریل کی صبح کو میں سرکٹ ہاؤ س( کمرہ نمبر ۴) میں سورہا تھا کہ باہر سے اذان کی آواز آئی۔ مسجد اگرچہ یہاں سے دور تھی۔ مگر لاؤڈاسپیکر کی وجہ سے آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ نئے زمانہ کی تکنیک نے کس طرح ہم کو یہ موقع دیدیا ہے کہ ہم خدا کی آواز کو وہاں تک پہنچا سکیں، جہاں ہم اپنی زبان سے بولے ہوئے الفاظ کو پہنچا نہیں سکتے۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔ دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا رہا۔ نئی جگہ پر جب آپ نماز پڑھیں اور رکوع اور سجدہ کریں تو آپ کے اندر نئی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ آپ نئی کیفیات کے ساتھ اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

صبح کو کچھ لوگ سرکٹ ہاؤس میں آگئے۔ ان سے ملکی اور ملی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ صبح کی چائے کے لئے’’ سیرت سرائے‘‘ والوں نے بلایا تھا۔ ڈاکٹر چھپا کے ساتھ انھیں کی گاڑی پر سیرت سرائے گیا۔ یہاں ایک مختصر نشست ہوئی۔

سیرت سرائے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ’’سیرت سرائے‘‘ کے لفظ سے بظاہر یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ کوئی ٹوٹی پھوٹی گندی جگہ ہوگی۔ مگر یہ نہایت صاف ستھری جگہ تھی۔ اس میں تقریباً ایک سو کمرے ہیں۔ یہ کمرے مسافروں کو معمولی کرایہ پر دئے جاتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مفید ملی خدمت ہے جس کی تقلید ہر جگہ کے مسلمانوں کو کرنا چاہئے۔

اس کے بعد صبح ۹ بجے سوچنا کیند رمیں جلسہ تھا۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں اکٹھا ہوئے۔ ایک ہندو بھائی نے قرآن کا ذکر کیا۔ چنانچہ میں نے اپنی تقریر میں قرآن ہی کو موضوع بنایا۔

میں نے کہا کہ پہلی آیت جو قرآن میں اتری وہ اقرأ تھی۔ یعنی علم حاصل کرو۔ اس وقت مکہ میں بہت سے مسائل تھے، مگر ان مسائل کا ذکر نہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ علم حاصل کرو۔ اس سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ قرآن کا طریق عمل ہے۔ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے عمل کا آغاز ہمیشہ علم اور شعوری بیداری سے کرنا۔ اس سلسلہ میں قرآن اور اسلامی تاریخ سے تفصیلات بیان کی گئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page