Al-Risala · January 1997 · page 36

Vivi La Vita Del Cercatore

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶

میں کہتا ہوں کہ جہاں مسائل ہوں گے وہیں مواقع بھی ضرور موجود ہوں گے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔

اٹلی کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان سے میں نے کہا کہ کرسی ایٹو زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کسی ایک ذہنی حالت پر نہ ٹھہریں۔ بلکہ اپنا ذہنی سفر برابر جاری رکھیں۔ ذہنی سفر برابر جاری رہنے کی پہچان یہ ہے کہ آپ ہر روز کوئی نئی چیز دریافت کر رہے ہوں ۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ ایک متلاشی کی زندگی گزاریں : Live the life of a seeker. پھر میں نے ان سے کہا کہ میری بات دہرائیے کہ میں نے کیا کہا۔ انھوں نے انگریزی میں اسے دہرایا۔ آخر میں میں نے کہا کہ میرے اس جملہ کا اطالین زبان میں ترجمہ کیجئے۔ انھوں نے حسب ذیل ترجمہ لکھ کر دیا :

Vivi La Vita Del Cercatore

ایک مسیحی عالم نے صلیب کے فلسفہ پر لمبی گفتگو کی۔ انھوں نے صلیب کو سب کچھ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ صلیب امن و سلامتی کا راستہ ہے:

Cross is the Way of peace.

میں نے کہا کہ صلیب کا امن سے کیا تعلق ہے ، اس کو مثال سے واضح کیجئے ۔ مگر وہ کوئی واضح مثال نہ دے سکے۔ اکثر لوگ بیانیہ انداز میں یا مدعیانہ اسلوب میں ایک بات کہتے ہیں۔ مگر جب مثال مانگی جائے تو مثال نہیں دے پاتے۔ آدمی جب بھی کوئی دعویٰ کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اس کی تصدیق میں ایک حقیقی مثال (نہ کہ فرضی مثال) پیش کرے۔ مثال کے بغیر دعویٰ بے دلیل رہتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ ایک شاعرانہ مضمون بندی ہے نہ کہ کوئی واقعی بات۔

کچھ عربوں سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل اسلام کی دھوم بہت زیادہ ہے۔ مگر اسلام کی اسپرٹ غائب ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ اسپرٹ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ مثلاً حدیث میں ہے کہ اکثرواذکرھادم اللذات۔ اس حدیث کے مطابق

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page