This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱
اس درمیان میں مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے اور میں اپنے انداز میں ہر ایک کو جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کیا غیر مسلموں کے تئیں نفرت کی تعلیم دیتا ہے۔
میں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام تمام انسانوں کے ساتھ محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور انسان سے نفرت یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ کسی دل میں جمع نہیں ہوسکتیں ۔ اس سلسلہ میں مختلف حدیثیں پیش کیں جو بتاتی ہیں کہ ایمان کس طرح آدمی کے اندر اعلیٰ انسانی اخلاق پیدا کرتا ہے۔
یکم اپریل کو واپسی تھی ۔ بذریعہ کار بھیل واڑہ سے او دے پور کے لئے روانہ ہوا جہاں سے جہاز لینا تھا۔ راستہ میں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے چتور میں ٹھہرے جو بھیل واڑہ اور او دے پور کے بیچ میں ہے۔
چتور گڑھ میں ایک بہت بڑی درگاہ ہے۔ اس کا نام ہے " درگاہ قاضی چل پھر شاہ" اس درگاہ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی ۔ درگاہ کی سیڑھیوں پر ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی عمر کافی ہوچکی تھی۔ انھوں نے مجھ کو دیکھ کر میرے ساتھی سے کہا : حضرت چل پھر شاہ انھیں کی طرح تھے۔ میں نے ان کو اپنی نوجواني کی عمر میں دیکھا ہے۔
چتور گڑھ نہایت تاریخی مقام ہے۔ یہاں ایک بہت بڑا قلعہ ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا۔ سولہویں صدی تک یہ شہر ریاست میواڑ کی راجدھانی تھا۔ یہاں سیسو دیا راجپوت راج کرتے تھے۔
مسلم عہد میں سب سے پہلے علاء الدین خلجی نے ۱۳۰۳ء میں اس کا محاصرہ کیا۔ گجرات کے بہادر شاہ نے ۱۵۳۴ء میں اور اکبر نے ۱۵۶۷ء میں اس کا محاصرہ کیا۔ لیکن راجپوتوں نے نہایت بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ مرد بڑی تعداد میں مارے گئے اور عورتوں نے اجتماعی خود سوزی کی رسم (جوہر) کے تحت اپنا خاتمہ کر لیا ۔ مگر انھوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پہلی بار ۱۵۶۸ء میں اکبر اس کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں تیس ہزار راجپوت ہلاک ہو گئے (9/380)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues