Khilji is said to have seen her through mirrors.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳
یہ ۱۲۲؍ فٹ اونچا ایک مینار ہے۔ اس کا اصل نام وجے استمبھ ہے۔ یعنی مینار کا فتح۔ یہاں آرکیالوجی کی طرف سے جو بورڈ لگایا گیا ہے اس پر لکھا ہوا ہے کہ رانا کمبھا کو ۱۴۴۲ء میں سلطان محمود خلجی (مالوہ) پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس فتح کی یادگار کے طور پر رانا نے ۱۴۶۸ء - ۱۴۵۸ء میں یہ استمبھ بنوایا۔ اس کی تعمیر پر جو پتھر لگائے گئے ہیں ان پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویریں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں اور موسیقی کے سامانول کی تصویریں بھی تراشی گئی ہیں۔ اسی کے ساتھ استمبھ کے اندر عربی رسم الخط میں اللہ بھی لکھا ہوا ہے۔ استمبھ کے باہر آرکیالوجی کا جو بورڈ لگا ہوا ہے اس پر اس کی بابت یہ الفاظ درج ہیں کہ استمبھ کی تیسری اور آٹھویں منزل پر عربی میں لکھا ہوا لفظ اللہ بتاتا ہے کہ راجہ دوسرے مذہبوں کا بھی کتنا احترام کرتا تھا :
The word “Allah” inscribed in Arabic in 3rd and 8th stories shows the regard of other faiths also. مہاراجا پرتاپ سنگھ (میواڑ) اور شہنشاہ اکبر کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ پرتاپ سنگھ کا سپہ سالار ایک مسلمان حکیم خاں سوری تھا۔ اور اکبر کا سپہ سالار ایک ہندو راجہ مان سنگھ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف سیاسی بالادستی کی لڑائیاں تھیں۔ ان کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو راجہ کی فوج میں مسلمان اور مسلم بادشاہ کی فوج میں ہندو ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ مذکورہ مثال کے مطابق، ہندو راجہ نے مسلم بادشاہ پر اپنی فتح کا مینار تعمیر کیا تو اس کی دیواروں پر اس نے ہندو مذہبی علامتوں کے ساتھ عربی رسم الخط میں اللہ کا نام بھی عطا کیا ادو سے پور کا قلعہ دیکھنے کے بعد ہم لوگ ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ ہم اپنے پروگرام کے مطابق، ٹھیک وقت پر ائیر پورٹ پہنچ گئے۔ مگر وہاں معلوم ہوا کہ جہازلیٹ ہے۔ میری واپسی انڈین ایئر لائنز کے جہاز سے تھی۔ لیکن انڈین ایئر لائنز میں تاخیر ایک عام چیز ہے۔ اور وقت پر روانگی صرف ایک استثنا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے باصرار کہا کہ آپ لوگ چلے جائیں۔ مگر وہ لوگ آخر وقت تک ائیرپورٹ پر ٹھہرے رہے۔ جہاز کا مقرر وقت پر نے پہنچے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues