Khilji is said to have seen her through mirrors.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۴
تھا۔ مگر جہاز عملاً ساڑھے سات بجے روانہ ہوا۔
اودے پور سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ IC ۴۹۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کے دو فلائٹ میگزین سواگت) دیکھے مارچ 1995 کے شمارہ میں ایک مضمون آگرہ کی کیتھولک سیمٹری (مسیحی قبرستان) کے بارہ میں تھا۔
اس میں بتایا گیا تھا کہ آگرہ کے اس قبرستان میں جن انگریزوں کی قبریں ہیں ان میں سے ایک انگریز سوداگر ملڈن ہال (Johan Mildenhall) ہے۔ وہ 1603 میں مغل دربار میں آیا۔ اس کے پاس الزبتھ اول کا ایک تعارفی خط تھا۔ اس میں مغل حکمران سے ہندوستان میں تجارت کی اجازت مانگی گئی تھی۔ اکبر نے کسی قدر تردّد کے ساتھ تجارت کی اجازت دے دی۔ بعد کو سرتھامس رو (Sir Thomas Roe) جہاں گیر کے دربار میں آیا اس نے جہانگیر سے بات کرکے اس سے مزید رعایتیں حاصلاً کر لیں. اس طرح ہندوستان میں انگریزوں کے نفوذ کے لئے دروازہ کھل گیا :
Thus heralding the rise of the British in India (p. 42)
انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سو آگت (اپریل 1995) دیکھا۔ اس میں تقریباً انگریزی اور نصف ہندی مضامین ہوتے ہیں۔ ہندی شعبہ میں ایک مضمون کا عنوان تھا: رہے گا بانس تو بجے گی بانسری۔ عنوان سے بظاہر یہ خیال ہورہا تھا کہ یہ مضمون "بانسری" کے بارہ میں ہوگا۔ لیکن پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ بانسری کا ذکر اس میں محض ضمنی طور پر ہے۔ اصل یہ مضمون بانس کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بانس ایک بہت مفید درخت ہے اور بانسری کے علاوہ اس کے بہت سے استعمال ہیں۔ مختلف ملکوں میں بانس کے استعمالات بتائے گئے تھے۔ میں نے سوچا کہ محض عنوان یا کوئی ظاہری پہلو دیکھ کرکسی چیز کے بارہ میں رائے قائم نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ اس کو پوری طرح دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ جزو کو دیکھ کر بظاہر جو رائے بنی تھی، وہ کل سے واقفیت کے بعد بدل جائے۔
انگریزی روز نامہ ہندو کا شمارہ یکم اپریل 1995 دیکھا۔ اس میں ایک خبر یہ تھی کہ گجرات کی حکومت نے ریاست کے تمام پرائمری اسکولوں، سکینڈری اسکولوں اور ہائر سکینڈری
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues