Al-Risala · July 1997 · page 45

Khilji is said to have seen her through mirrors.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵

اسکولوں کے لئے لازم قرار دیدیا ہے کہ تمام طلبہ روزانہ اجتماعی طور پر بندے ماترم کا ترانہ گائیں ایجوکیشن منسٹر مسٹر نلین بھٹ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم بچوں کے اندر حب الوطنی، قومیت کا جذبہ پیدا کرنے میں مددگار ہوگا اور پوری قوم کو متحد کرنے کا ذریعہ بنے گا:

Vande Mataram would help the children in developing patriotism and nationalism and would be a vehicle to unite the entire nation. (p. 9) میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ترانوں سے کبھی کوئی قوم نہیں بنتی۔ بنتی۔ ۱۹۴۷ سے پہلے پوری پاکستانی قوم نے یہ ترانہ گایا تھا اور اب بھی گاتی ہے کہ __ پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الا اللہ۔ لیکن مزاج اور کردار کی تعمیر کے اعتبار سے اس کا ایک پرسنٹ فائدہ بھی نہیں ہوا۔ یہی انجام بندے ماترم کا بھی ہوگا ۔ اسکول کے بچے تو درکنار ، اگر انڈیا کے تمام لوگ ہر روز صبح کو یہ ترانہ گائیں تب بھی اس کا کوئی حقیقی عملی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔ اس طرح کے ترانے صرف بڑوں کو خوش کرتے ہیں، وہ بچوں کے تعمیر کردار میں کچھ بھی مددگار نہیں ہوتے۔ یکم اپریل ۱۹۹۵ء کی شام کو 9 بجے دہلی واپس آگیا۔ ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہاں ایئرپورٹ پر لوگ دیر میں پہنچے۔ مجھ کو تقریباً پندرہ منٹ کھڑے ہو کر ان کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ پندرہ منٹ اتنا لمبا معلوم ہوا کہ میری زبان سے نکلا کہ خداایا، اس دنیا میں پندرہ منٹ کا انتظار بھی برداشت نہیں ہوتا۔ قیامت میں انسان کا حال کیا ہوگا جب اس کو لامعلوم مدت تک انتظار کی حالت میں کھڑا رہنا پڑے گا، جب کہ وہاں کا ہر منٹ دنیا کے منٹ سے بے حساب حد تک زیادہ سخت ہے۔

قیادت نامه مولانا وحید الدین خاں حدیث رسول مولانا وحید الدین خاں الربانیہ حیات بشری کا ربانی طریقہ مولانا وحید الدین خاں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page