Al-Risala · July 1997 · page 47

Khilji is said to have seen her through mirrors.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

میں داخل ہوئ ہیں۔ نیز وہ اس حقیقت کو جان گئے ہیں کہ ٹکراؤ کی سیاست بے فائدہ سیاست ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مل جل کرزندگی گزاری جائے اور نزاعی مسائل کو پرامن بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے۔

۔ ورلڈفلا سفر س میٹ کی دعوت پر نومبر 1996ء کے آخری ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے ۵ پونا کا سفر کیا۔ یہاں ہندوستان کے علاوہ مختلف ملکوں کے سات سو ڈیلی گیٹ شریک ہوئے اسلام میں امن کے تصور پر یہاں دو تقریریں ہوئیں۔ اس کے علاوہ شہر میں مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ بعض مقامی اخبارات سے انٹرویو بھی لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کے عام مسلمان یہاں کی نیشنل مین اسٹریم میں شریک ہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں جو اپنی جذباتی تقریروں سے الٹا تاثر دیتے ہیں۔

اسٹیٹس مین کے نمائندہ مسٹر ضیاء السلام نے ۲ دسمبر 1996ء کو صدر اسلامی مرکزکاانٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلامی رواج سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کے نام پر برصغیر ہند کے مسلمانوں میں جو رسوم رائج ہیں وہ زیادہ تر پڑوسی قوموں کے اثر سے مسلمانوں میں آگئے ہیں۔ وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔ ۱ دسمبر 1996ء کو آریہ سماج کے دفتر (جنتر منتر روڈ، نئی دہلی) میں مختلف مذاہب کے دانشوروں ے کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے نومبر 1996ء میں اپنے ایک فیصلہ کے تحت بنگال میں عبادت خانوں کے اوپر لاؤڈ اسپیکر لگانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ کہا گیا کہ یہ فیصلہ بالکل درست ہے اور پورے ملک میں اس پر عمل ہونا چاہیے۔ لاؤ ڈ اسپیکر کا استعمال عبادت خانہ کے اندرونی حصہ میں بوقت ضرورت ہونا چاہیے۔ مگر باہر لاؤڈ اسپیکر لگانا صرف شور میں اضافہ کرتا ہے اس کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں۔ اس پروگرام کا خلاصہ اسی دن ٹی وی پر دکھایا گیا۔ برلن کے ادارہ سنٹر فار ماڈرن اور نیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ اسکالر ۸ (Dr Dietrich Reetz) نے ۱۵ دسمبر 1996ء کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اور تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ انڈیا کی قبل از آزادی مسلم تحریکوں پر ریسرچ کر رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page