Al-Risala · January 1997 · page 37

Parrocclic Madonna Della Tosse

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷

ایمان و اسلام کی زندگی کا تقاضا ہے کہ آدمی بہت زیادہ موت کو یاد کرنے والا بن جائے۔ مگر آجکل میں دیکھتا ہوں کہ ہر جگہ بس زندگی کا چرچا ہے۔ موت کا تذکرہ کہیں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ ہم سب لوگ موت کو یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موت کو یاد کرنے کی پہچان کیا ہے۔ وہ خود اس حدیث کے الفاظ میں موجود ہے۔ اس میں موت کو ھادم اللذات (لذتوں کو ڈھادینے والی) کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کو یاد کرنے والا وہ ہے جس کے لئے موت کی یاد ہادم اللذات بن جائے۔ اس کے لئے دنیا کی چیزوں میں لذت نہ رہے۔ وہ دنیا کی لذتوں سے محظوظ نہ ہو سکے۔ دنیا کی ہر لذت اس کے لئے بے لذت بن گئی ہو۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔

فلارنس میں ایک مسیحی ادارہ ہے جس کے تحت مختلف تعلیمی اور رفاہی شعبے قائم ہیں۔ اس کے ڈائرکٹر فادر چیارونی (Chiaroni) ہیں۔ ادارہ کا پورا نام یہ ہے :

Parrocclic Madonna Della Tosse

اس ادارہ کی طرف سے مجھے دعوت دی گئی تھی کہ میں ان کے اجتماع میں اسلام کا تعارف پیش کروں۔ اس کے مطابق۲۳اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد ہم لوگ وہاں کے لئے روانہ ہوئے۔ شام کا کھانا بھی انھیں کے یہاں تھا۔ ہم لوگ پہنچے تو کھانا میز پر رکھا جا چکا تھا۔ چنانچہ ہم لوگ سیدھے طعام گاہ میں چلے گئے۔

یہ ایک سادہ اور نہایت صاف ستھرے انداز کا ایک بڑا کمرہ تھا۔ کمرہ میں داخل ہوتے ہی پہلی چیز جس نے متوجہ کیا وہ اس کی ایک بڑی تصویر تھی جو فریم کرکے دیوار پر لگائی گئی تھی۔ یہ آئن سٹائن کی تصویر تھی۔ اس تصویر کے نیچے آئن سٹائن کا ایک قول اس طرح لکھا ہوا تھا امن کو طاقت کے ذریعہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف مفاہمت کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے:

Peace cannot be kept by force. It can only be achieved by understanding. چوکورمیز کے گرد ادارہ کے تمام ذمہ دار بیٹھ گئے۔ یہ تقریباً ۳۰ عورت اور مرد تھے۔ کھانا اور

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page