Parrocclic Madonna Della Tosse
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸
کمرہ کا پورا ماحول انتہائی سادگی کے ساتھ انتہائی بات سادگی اور سلیقہ مندی کا نمونہ تھا جس کی تصویر کشی لفظوں میں نہیں کی جاسکتی۔
میز پر پانی کی بوتل کے اوپر سرخ رنگ میں لکھا ہوا تھا پنا (PANNA) میں سمجھا کہ اس کا مطلب پانی ہے، اور ہندوستان کا پانی اٹلی میں پن ابن گیا ہے۔ مگر یہ میری غلط فہمی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پنا مخفف انداز میں کمپنی کا نام ہے۔ ورنہ اطالوی زبان میں پانی کو اکوا (acqua) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اکثر لوگ ایک مفروضہ اپنے ذہن میں قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر بلا تحقیق اس کے اوپر منزل در منزل عمارت بناتے چلے جاتے ہیں۔ حالاں کہ وہ سب کا سب بے بنیاد ہوتا ہے جب ابتدائی مفروضہ ہی غلط ہو تو اس کی بنیاد پر گھڑی ہوئی کہانی کیوں کر درست ہوسکتی ہے۔ کھانے کے دوران مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اٹلی کی آبادی میں کمی ہورہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ذاتی سہولت کی خاطر برتھ کنٹرول کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اکثر شادی شدہ جوڑے بچے کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔ کھانے پر ایک صاحب اپنی بیوی کے ساتھ تھے۔ انھوں نے تصویر دکھائی کہ انھوں نے کیرلا کے دو بچوں کو اڈاپٹ کیا ہے۔
اس کے نتیجہ میں کئی نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اٹلی کے لوگ زیادہ کمائی کے لئے باہر جایا کرتے تھے۔ اب خود اٹلی باہر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اٹلی آئیں اور یہاں کام کریں۔ خاص طور پر چھوٹے کام یا مزدوری والے کاموں میں کارکنوں کی بہت قلت ہوگئی ہے۔
کھانے کے بعد ساڑھے نو بجے ہم لوگ ادارہ کے هال میں جمع ہوئے۔ یہاں بہت سے مرد و عورت کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر انگریزی میں تھی جس کا ترجمہ ساتھ ساتھ اطالوی زبان میں کیا جا رہا تھا۔ تمہیدی کلمات میں منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آجکل اسلام کے بارہ میں غلط فہمیاں بڑھ گئی ہیں۔ خاص طور پر یورپ میں یہ غلط فہمیاں اور زیادہ ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذہب کو براہ راست طور پر جانیں۔ اس کے بعد میں نے بتایا کہ مسلم کون ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے قرآن کی آیت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues