Al-Risala · January 1997 · page 39

Behaviour of a Muslim in his environment

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹

(ابراہیم (۲۴) کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن اپنے ماننے والے کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمان اس دنیا میں درخت کی مانند رہے۔ وہ خدا کی دنیا سے رزق لے کر ارتفا کرے۔ اور پھر ہر اعتبار سے اہل عالم کے لئے نفع بخش بن جائے۔

اس کے بعد میں نے ایک پیپر پیش کیا۔ یہ صرف احادیث کے ترجمہ پر مشتمل تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔ اپنے ماحول میں مسلم کا سلوک :

Behaviour of a Muslim in his environment

اس میں ۶۰ حدیثیں تھیں جو سب کی سب صحاح سے لی گئی تھیں۔ ترتیب یہ تھی کہ میں ایک حدیث پڑھتا تھا اور میرے پاس بیٹھے ہوئے ایک پر وفیسر اس کا ترجمہ اطالین زبان میں کرتے جاتے تھے۔

نصف حدیثیں سنانے کے بعد میں نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ساری حدیثیں آپ کو سناؤں۔ اور اگر آپ کی رائے ہو تو حدیث سنانے کا سلسلہ یہیں روک دیا جائے اور اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں، آپ تمام حدیثیں پہلے سنا دیں۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوگا۔ چنانچہ میں نے تمام حدیثوں کے ترجمے سنائے۔ جن کی تعداد مجموعی طور پر ساٹھ تھی۔

اس کے بعد صدر جلسہ نادر چیا رونی نے اعلان کیا کہ اب آپ لوگ مقرر سے سوالات کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے پوچھا کہ سوال صرف پیپر کے دائرہ میں کیا جا سکتا ہے یا اس کے باہر کے سوالات بھی پوچھے جاسکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے کہ جو سوال چاہیں کریں۔ دو تین آدمیوں نے انگریزی میں سوال کیا اور بقیہ تمام لوگوں نے اطالین زبان میں سوالات کئے ۔ میں نے ہر ایک کا جواب انگریزی میں دیا۔ جس کا فوری ترجمہ کیا جاتا رہا۔

صدر جلسہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی نے اب تک اسلام کو ہمارے سامنے اس طرح پیش نہیں کیا تھا۔ اب تک ہم اسلام کے بارہ میں وہی چند باتیں جانتے تھے جو میڈیا کے ذریعہ ہم تک پہنچی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page