the only solution is decentralisation of power.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷
مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں گوشت کھانے کی کوشش کرتا تھا۔ جس کا ذائقہ مجھے بالکل ربڑ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ البتہ اپنے مذہب کے احترام میں گائے کا گوشت کھانے سے میں نے انکار کر دیا۔ مسٹر ٹھکّر اپنے آشرم سے ایک انگریزی پرچہ اشانی (Ishani) کے نام سے نکالتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ سیاست اور مذہب کا دور ختم ہو گیا۔ مستقبل اب سائنس اور روحانیت کے لئے ہے:
میں نے کہا کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سیاست کا رول اب محدود ہو گیا ہے۔ مگر سچا اور حقیقی مذہب بدستور علم اور روحانیت دونوں کے لئے گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوہاٹی کے سمینار (اور اس طرح کے دوسرے سمیناروں میں جو باتیں میں نے سنیں اور مسلم اجتماعات میں جو باتیں کی جاتی ہیں، جب میں دونوں کامقابلہ کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ اس طرح کے سیمناروں میں ہمیشہ ملکی مسائل زیر بحث آتے ہیں۔ مثلاً گوہاٹی کے سیمنار میں ساری بحث دو نکتہ پر مرکوز رہی۔ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو کس طرح ختم کیا جائے۔ اس علاقے کی معاشی پس ماندگی کو کس طرح دور کیا جائے۔ اس کے برعکس مسلم اجتماعات میں ساری بحث صرف مسلم کمیونٹی کے مسائل پر ہوتی ہے۔ یہ بحث بھی اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ مسلمان اس ملک میں تعصب اور ظلم کا شکار ہو رہے ہیں، اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔
اس صورت حال نے مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم سے الگ کر دیا ہے۔ وہ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں، جیسے کہ وہ کوئی الگ قوم ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اس ملک میں ایک محروم اور مظلوم طبقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک مسلمان بزرگ سے میں نے کہا کہ ہندوستان کی قیادت کی سوسالہ سرگرمیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے ہنگامہ کر کے تقسیم کرانا، اور جب تقسیم
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues