the only solution is decentralisation of power.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸
سے ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر دوبارہ فریاد شروع کر دینا۔ ایک صاحب نے کہا کہ اعداد و شمار پیش کر کے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ گراس نیشنل پروڈکشن (جی این پی) میں اضافہ ہوا ہے۔ میں کہوں گا کہ اگر جی این پی بڑھا ہے تو ساتھ ہی ایک اور جی این پی بھی بڑھا ہے۔ یہ دوسرا جی این پی ہے ۔ ۔ ۔ گراس نیشنل پاورٹی۔
ایک صاحب نے کہا کہ نارتھ ایسٹ انڈیا کا سارا مسئلہ مصنوعی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس غلطی کی تصحیح کیجئے ، اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کو ختم کر کے سارے علاقہ کو ایک جغرافی وحدت بنا دیجئے ، اور پھر سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔
بنگلہ دیش کی طرف سے روزگار کی تلاش میں جو لوگ آتے ہیں ، ان کو ایک صاحب نے ناخوانده مهمان (unwelcome guests) بتایا اور کہا کہ ان کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ اس کا تعلق "بنگلہ دیش" سے نہیں ہے۔ یہ تو تقسیم کے بہت پہلے سے رایج ہے۔ معاشی ضرورت کے تحت ساری دنیا میں لوگ ادھر سے اُدھر جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ بھی آتے ہیں ، اور پھر اکثر واپس چلے جاتے ہیں۔
گوہاٹی کے انگریزی اخبار نارتھ ایسٹ ٹائمز (The North East Times) کا شمارہ ۳ جنوری دیکھا۔ اس میں نیو گوہاٹی کے جیبون سائیکیا (Jibon Saikia) کا خط پڑھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ کانگریس کی ووٹ بنک کی پالیسی کے نتیجہ میں بنگلہ دیش سے مسلمانوں کی آمد برابر جاری ہے۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے ۲۰ سال میں آسام ایک مسلم اکثریت کا علاقہ بن جائے گا :
It has now become crystal clear that Assam is going to be a Muslim majority state in India, in the course of near about twenty years. (p. 4) اسی کے ساتھ اخبار میں بہت سی خبریں تھیں جو بتا رہی تھیں کہ یہاں کے جرائم کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ امپھال کے علاقہ میں پانچ کو کی مار ڈالے گئے اور تین آدمی بری طرح زخمی ہوگئے۔ جورہاٹ میں پانچ مسلم نوجوان ایک بنک میں داخل ہوئے اور دو لاکھ ستائیس ہزار روپے لے کر فرار ہو گئے۔ گرام دیوگاؤں میں پندرہ ڈاکوؤں کا ایک گروہ ایک اسکول ٹیچر مہندر داس کے گھر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues