Al-Risala · January 1997 · page 40

Behaviour of a Muslim in his environment

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۰

تھیں ۔ دوسرے کئی لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اسلام کو از سر نو دریافت کیا ہے ۔ ہماری اسلامی معلومات میں بہت اضافہ ہوا ۔

پروگرام کے خاتمہ پر ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور مراکو (مغرب) سے یہاں آیا ہوں۔ انھوں نے اپنا نام اس طرح کاغذ پر لکھ دیا۔ صدیگی محمد (Sdaigui Mohamed) ان سے عربی میں بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ فلارنس میں تقریباً پانچ ہزار مسلمان ہیں جو بیشتر افریقہ کے ہیں۔ یہاں شہر کے اندر ایک مسجد بھی ہے۔ یہ مسلمان زیادہ تر چھوٹے کام کرتے ہیں۔ تاہم یہاں ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک خاتون نے پوچھا کہ اسلام میں عورت کا درجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام عورت اور مرد کو مکمل طور پر برابری کا درجہ دیتا ہے۔ دونوں میں عزت اور حقوق کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ صالح عورت کے لئے بھی اسی طرح جنت کی خوش خبری ہے جس طرح صالح مرد کے لئے۔ البتہ مقامِ کار (work place) دونوں کا اسلام میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ یہ ایک عملی بندوبست (arrangement) ہے نہ کہ امتیاز۔ میں نے مثال دی کہ ایک بزنس ہاؤس میں کچھ لوگ آفس کے اندر کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ فیلڈ ورک میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایک گروپ اندر کا کام سنبھالتا ہے اور دوسرا گروپ باہر کا کام۔ اس فرق کو کوئی امتیاز نہیں سمجھتا۔ بلکہ صرف تقسیمِ کار سمجھتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں عورت اور مرد کے مقامِ کار میں فرق رکھا گیا ہے۔ عورت بنیادی طور پر گھر کے کام کو سنبھالتی ہے اور مرد بنیادی طور پر باہر کا کام۔ مگر یہاں بھی یہ فرق صرف تقسیمِ کار کے معنی میں ہے نہ کہ امتیاز کے معنی میں۔

میں نے کہا کہ عورت کے بارے میں مغربی تصور اور اسلامی تصور میں صرف یہ فرق ہے کہ مغربی تصور میں عورت اور مرد کو دو برابر کی شخصیت مانا گیا ہے۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے تکملہ (complementary) ہیں۔

ایک صاحب نے اسلامی فنڈمنٹلزم کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہاکہ مروجہ مفہوم میں فنڈمنٹلزم کو فَن اٹسنزم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو اسلام میں فنائٹسنزم نہیں ہے۔ اسلام ایک فطری مذہب ہے۔ اس میں انسانوں کو حد درجہ رعایت دی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page