the only solution is decentralisation of power.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
میں گھس گیا۔ انھوں نے گھر والوں کو مارا اور ایک ہزار روپیہ نقد اور قیمتی سامان لے کر بھاگ گئے۔ ۔ دومونی میں ایک ہتھیار بند گر وہ ایک بنک میں داخل ہوا اور پچاس لاکھ روپیہ لے کر بھاگ گیا۔ فیو آسام میں بنگلہ دیشیوں کی آمد کا افسانہ صحیح ہے یا غلط ، اس سے قطع نظر ، آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ ریاست اگر بالفرض مسلم اکثریت کا علاقہ بننے والی ہو تو ان کو سخت پریشانی ہوگی لیکن اگر ان کی ریاست جبرُاًا اکثریت کا علاقہ بن رہا ہو تو اس کے لئے انھیں کوئی پریشانی نہیں ، یہی غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے جس نے ملک کو موجودہ تباہی کے مقام پر پہنچایا ہے۔ مسٹر چارلس چاشی (Charles Chashie) انگریزی روزنامہ گالیگنڈ آبزرور کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقہ کی ٹریجڈی دراصل لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ انھوں نے آرایم لالہ کی کتاب قیادت کی تلاش (In Search of Leadership) کا حوالہ دیا۔ مصنف نے اس میں میک گریگر (Mac Gregor) کا قول نقل کیا ہے کہ عوام کو بہتر حالت کی طرف لے جانے کا راز قیادت کو بہتر بنانا ہے :
That people can be lifted into their better selves is the secret of transforming leadership. میں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اس علاقہ کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا اور ہر کمیونٹی کا ہے۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے یہاں اچھے لیڈر نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عمومی جہالت اور بے شعوری کی وجہ سے لوگ اچھے آدمی کو اپنا لیڈر نہیں بناتے ۔ کیوں کہ اچھا لیڈر ہمیشہ حقیقت پسندی کی بات کرتا ہے جس کی اہمیت کو بے شعور عوام سمجھ نہیں پاتے۔ اس کے برعکس ، بر لیڈر جذباتی باتیں کرتا ہے جس کو ہر آدمی سمجھ لیتا ہے اور پر جوش طور پر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ کلکتہ سے مبارک کریم جو ہر صاحب بھی اس سمینار میں آئے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً پچاس سال ہے۔ اس مدت میں وہ بنگلہ زبان میں پچاس کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں صوفی ازم پر ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی معرفت کی بات جو آپ نے اپنے مطالعہ میں پائی ہو اس کو بتائیے۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ اپنے قلم سے لکھے : انسان اپنے کو جاننے سے تمام ادیان کا جاننا ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues