Al-Risala · August 1997 · page 30

the only solution is decentralisation of power.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰

انھوں نے بتایا کہ کلکتہ کے ہند و پبلشر ہر ایران سے اسلامی کتابیں مانگتے رہتے ہیں مگر وہ ان کی فرمائش پوری نہیں کر پاتے۔ ان کی کتابیں زیادہ تر ہند و پبلشر نے چھاپی ہیں۔ صحیح بخاری اور اس طرح کی کئی دوسری کتابوں کا بنگلہ ترجمہ وہ چھپواچکے ہیں۔ انھوں نے کلکتہ میں انڈین صوفی سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ (400475 .Tel)

ایک مجلس میں ملک کی تقسیم پر بات ہونے لگی۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسٹر محمد علی جناح تو ۱۹۳۰ میں لندن چلے گئے تھے اور وہاں پریوی کونسل میں پریکٹس کرنے لگے تھے۔ پانچ سال بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں لندن گئے۔ اور ان کو ہندوستان واپسی کے لئے آمادہ کیا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ سب غیر ضروری باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کے سب ملک کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں ۔ اور ہم ہی کو اس کی قیمت ادا کرنا ہے : We all are responsible for partition and we have to pay the price. ایک صاحب نے بتایا کہ راج موہن گاندھی نے اپنی انگریزی کتاب (آٹھ زندگیاں) میں لکھا ہے کہ مسٹر محمد علی جناح جب ہندستانی پال ٹیکس سے الگ ہو کر لندن چلے گئے تو اس کے بعد برٹش سرکار کے کسی ذمہ دار نے بات کرتے ہوئے جواہر لال نہرو سے پوچھا کہ جناح کا معاملہ کیا ہے ۔ نہرو نے جواب دیا کہ جناح تو سیاسی اعتبار سے ختم ہو گئے (Jinnah is finished) جناح تک یہ خبر پہنچی تو انھوں نے کہا کہ اچھا، میں ان کو دکھاؤں گا کہ میں کس طرح زندہ ہوں : Finished, I will show him. اس کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں لندن گئے۔ اور مسٹر جناح کو ہندوستان واپس آنے کے لئے کہا ۔ مسٹر جناح نے کہا کہ آپ ہندوستان واپس جائیے اور لوگوں کی رائے معلوم کر کے مجھے بتائیے ۔ لیاقت علی خاں واپس آئے۔ اور لوگوں کی رائے معلوم کرنے کے بعد مسٹر جناح کو ایک ٹیلی گرام بھیجا ۔ یہ ٹیلی گرام صرف ایک لفظ پر مشتمل تھا۔ آ جائیے (come) اس طرح مسٹر جناح دوبارہ ہندستانی پال ٹیکس میں واپس آگئے ۔

انھوں نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ ۱۹۳۷ کے الیکشن کے بعد جناح کا کانگریس سے الگ ہو گئے اور ملک کی تقسیم پر پختہ ہوگئے۔ مگر مولانا آزاد کے بیان کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page