the only solution is decentralisation of power.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
مطابق ، یہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ یوپی کیبنٹ میں کانگریس مسلمان لے جائیے یا مسلم لیگی مسلمان ۔ اصل یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اپنے جن دو آدمیوں کو کیبنٹ میں شامل کرنے کے لئے جو دو نام دئے تھے ، وہ لیاقت علی خاں اور عبد الرحمان نشتر تھے ۔ دونوں زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے جب پرکاش نرائن ، رام منوہر لوہیا جو کسان لیڈر تھے ، وہ اس کے سخت مخالف ہوگئے ۔ یہ لوگ سوشلسٹ ذہن کے تھے اور اس زمانہ میں زمیندار ی کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم زمیندار وں کو اپنی کیبنٹ میں لیں تو ہم عوام کو کیا جواب دیں گے ۔ یہ وجہ تھی جس کی بنا پر مسلم لیگ کے نامزد افراد کو کیبنٹ میں لینے سے انکار کیا گیا۔ مسٹر بی کے رائے برمن نے اپنے مفصل پیپر میں نارتھ ایسٹ کے قبائل کے لئے حق خود اختیاری (right of self-determination) کی وکالت کی اور اس علاقہ کے مسئلہ کا حل یہ بتا یا کہ ان کواٹانومی دی جائے ۔ تا ہم انھوں نے کہا کہ حق خود اختیاری سے ان کی مراد حق خود انتظامی (right of self-management) ہے نہ کہ انقطاع (secession) ، اس سلسلہ میں انھوں نے دستور ہند کے علاوہ اقوام متحدہ کے ڈیکلریشن اور انسائیکلوپیڈیا آف سوشل سائنسز کا حوالہ دیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے دستور میں شہریوں کے حقوق کی دفعہ تو موجود ہے۔ مگر اس میں شہریوں کی ذمہ داری کی کوئی دفعہ نہیں۔ چنانچہ اب سارے ملک کا یہ حال ہو ر ہا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو تو آخری حد تک جانتے ہیں ، مگر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی انھیں خبر نہیں ۔ ہمارا ذہن کچھ اس طرح بن گیا ہے جیسے کہ آزاد ملک کے لوگوں کے صرف حقوق ہوتے ہیں ، ان کے کوئی فرائض نہیں ہوتے :
Citizens of a free country have only rights and rights and rights, but no duties. اس معاملہ میں مسلمانوں کا کوئی استثناء نہیں ۔ میں مسلم دانشوروں کی جتنی بھی تحریریں پڑھتا ہوں ہر ایک میں صرف مسلمانوں کے حقوق بتائے جاتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں جو مسلمانوں کو بتائے کہ مسلمان جس ملک میں یا جن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues