Behaviour of a Muslim in his environment
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱
گئی ہے۔ اسلام میں حکیمانہ انداز کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ کٹر پن، انتہا پسندی اور تشدد کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ گاندھی کے نظریہ اور اسلام کے نظریہ میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک گاندھی کے مذہب کا تعلق ہے تو گاندھی ایک ہندو تھے اور ہندو مذہب الگ ہے اور اسلام الگ۔ مگر جہاں تک ان کے طریق کار کا تعلق ہے جس کو عدم تشدد (non-violent activism) کہا جاتا ہے تو وہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ اسی لئے وقت کے تمام مسلم علماء نے اس طریق کار کو اختیار کیا اور سیاسی اعتبار سے گاندھی کو اپنائٹ اُڈ بنالیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامک ایکٹوزم بھی عین وہی ہے جس کو نان وائلنٹ اکٹوزم کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے مختلف سوالات کئے گئے۔ کسی نے بھی کراس کوسچن نہیں کیا۔ پوری گفتگو نہایت سنجیدہ اور افہام وتفہیم کے ماحول میں ہوئی۔
پروگرام کے خاتمہ پر میں نے ایک مسیحی نوجوان مسٹر سیر جیو (Sergio) سے پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ نوجوان نے نہایت سادگی سے جواب دیا : آج آپ کو سن کر میں نے جانا کہ اب تک اسلام کے بارہ میں بہت کم جانتا تھا۔ اس پروگرام نے میرے اندر یہ خواہش جگادی کہ میں اسلام کے بارہ میں اور زیادہ معلومات حاصل کروں۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ آپ نے جس سادگی اور وضاحت کے ساتھ اسلام کے بارہ میں بتایا وہ بہت انوکھا تھا۔ آپ کی بات خوب سمجھ میں آئی۔ موجودہ زمانہ کی نئی پیدا شدہ چیزوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آج لوگ صرف اپنے خول میں رہنا کافی نہیں سمجھتے۔ ہر آدمی خارجی دنیا کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے۔ اس معلوماتی خواہش کا تعلق تمام چیزوں سے ہے حتی کہ مذہب سے بھی۔ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہوئے دوسرے مذاہب کو جاننے کا شوق رکھتے ہیں۔ یہ ایک نیا امکان ہے جس کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم اس جدید امکان کو استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بات کو جدید انسان کے پسندیدہ اسلوب میں پیش کیا جائے ۔ آج کا پسندیدہ اسلوب سائنٹفک
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues