It is absolutely incorrect
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۲
اسلوب ہے۔ مناظرانہ یا واعظانہ انداز آج پسند نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح ادبی یا قصہ گھڑی انداز بھی آج کے اعتبار سے غیر موزوں ہے۔ اس لئے جدید امکان کو استعمال کرنا صرف اسی وقت ممکن ہے جبکہ ہم مخاطب کے اپنے اسلوب کے مطابق بات کہیں ۔ ہمارا تیار کیا ہوا لٹریچر جدید انسان کو اپیل کرنے والا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ سن کر بھی نہیں سنے گا۔ پڑھ کر بھی کچھ نہیں پائے گا۔ ۲۴ اکتوبر کو ناشتہ کی میز جسٹس کھنا ( سابق جج سپریم کورٹ) سے مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مسٹر جناح انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔ وہ فوراً بولے یہ مکمل طور پر نادرست بات ہے:
It is absolutely incorrect
انھوں نے کئی بڑے ہندوؤں کے تاثرات مسٹر جناح کے بارے میں نقل کئے۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ چندی گڑھ میں پنجاب ہائی کورٹ کے جج تھے تو مسٹر گاڈ گل گورنر پنجاب نے ان سے کہا کہ مسٹر جناح کی پیشہ ورانہ دیانت داری (Professional integrity) مکمل طور پر ہر شبہ سے بالاتر تھی ۔ اور اسی لئے وہ اپنے وقت میں انڈیا کے نمبر ایک قانون داں بن گئے ۔ میں نے مسٹر جناح کے بارے میں کئی تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کی ۔ میں نے محسوس کیا کہ بٹوارہ کی تلخی کے باوجود ہر ایک ذاتی اعتبار سے مسٹر جناح کا قدرداں تھا ۔ مثلاً مسٹر ملکانی روائس پریزیڈینٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زبان سے ایک بار میں نے مسٹر جناح کی تعریف سنی۔ میں نے کہا کہ مسٹر جناح تو ملک کے بٹوارہ کے ذمہ دار تھے ، پھر بھی آپ ان کی تعریف کرتے ہیں۔ مسٹر ملکانی نے کہا: کچھ بھی ہو، وہ نرم دار تو تھا۔
فلارنس کے مختلف علاقوں میں بار بار جانے کا اتفاق ہوا۔ مگر وہاں کبھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی ۔ حتیٰ کہ پر شور انجن والی گاڑیاں بھی کہیں دکھائی نہیں دیں۔ آج میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی مسلسل ہارن بجاتی ہوئی سڑک پر دوڑی چلی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ ایمبولنس کی گاڑی ہے۔ مغربی ملکوں میں ذاتی مقصد کے لئے کوئی ہارن نہیں بجاتا۔ یہاں صرف دو قسم کی گاڑیاں ہارن بجاتی ہیں ۔ ایمبولنس کی گاڑی یا فائر بریگیڈ کی گاڑی ۔
جسٹس کھنہ روزانہ صبح کو بی بی سی کا ٹی وی پر پروگرام دیکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چند دن
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues