Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
ہو جائے گا۔ اب وہ گھبرا گئی اور نام بتانے کے لیے تیار نہیں ہوئی ۔ آخر میں ایک مرد آیا۔ اس نے کہا کہ تم ان۔ کو مت روکو اور اپنا نام لکھ کر دے دو۔ اس کے بعد اس نے اپنا نام سوسن تک لکھا۔ (Ms Susan Jacob) اور فوراً میرا بورڈنگ کارڈ مجھے دے دیا۔ اس کے بعد ایک اور مرد مسٹر نیویل مستری (Naville Mistry) کو میرے ساتھ کر دیا۔ وہ پہلے مجھے ریسٹوراں میں لے گیا۔ اس کے بعد مجھے گیٹ نمبر تک پہنچایا جہاں سے مجھے آگے کا جہاز لینا تھا۔
ہندوستان میں ساڑھے چھ ہزار یہودی ہیں۔ ان میں سے ساڑھے پانچ ہزار بمبئی میں آباد ہیں۔ بمبئی کی سموئيل اسٹریٹ پر یہودیوں کی ایک عبادت گاہ (synagogue) ہے جو 1796ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوستان میں یہودی دو ہزار سال پہلے آئے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے برصغیر ہند میں ان کی تعداد ساٹھ ہزار تھی۔ بمبئی میں مجموعی طور پر یہودیوں کے نوسینیگا گ موجود ہیں۔ تاہم یہودیوں کی دلچسپی اپنے مذہب سے اتنی کم ہے کہ سموئيل اسٹریٹ کے دوسوسالہ قدیم سینیگاگ میں سنیچر(سبت) (سبت) کے دن بمشکل دس یہودی اپنی ہفتہ وار عبادت کے لیے آتے ہیں (آفٹر نون، بمبئی، ۳ ستمبر ۱۹۹۵) بمبئی کے ابو القا صاحب (عمر ۷۴ سال) نے ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۵ کی ایک ملاقات میں بتایا کہ بمبئی میں ایران سے آیا ہوا ایک یہودی تھا۔ اس کا نام مسٹر کلائی (A. A. Kelaty) تھا۔ اس کی تجارتی فرم کا نام یہ تھا:
Kelaty Trading Company
وہ شیپ کیسنگ (sheep casing) کی سپلائی کا کام کرتا تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس کے ساتھ ابوالبقاصاحب کی پارٹنر شپ ہوئی۔ کئی سال تک اس کے ساتھ پارٹنر شپ بہت اچھی طرح چلتی رہی۔ اس کے بعد وہ بمبئی چھوڑ کر اسرائیل گیا اور وہاں سے پھر امریکہ چلا گیا۔
جب دونوں میں پارٹنر شپ کی بات ہوئی تو مسٹر کلائی نے کہا کہ دیکھئے، آپ مسلمان ہیں، میں ایک یہودی ہوں۔ عرب اور اسرائیل کی نزاع میں میرا آپ کا اختلاف واضح ہے، اس کے باوجود ہمیں اپنی مشترک تجارت کو کامیابی کے ساتھ چلانا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہم آپ کبھی عرب اور اسرائیل کے مسئلہ پر بات نہ کریں۔ چنانچہ دونوں اس پر قائم رہے ۔ ان کی پارٹنر شپ آپ جی رب اور اسراریں کے سلہ پر بات نہ کریں۔ چاپہ پہ رودوں اس پر کام رہے ۔ ان ہی پار پر چپ آخر وقت تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues