Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
اسرائیلی ائیر لائن کا نام ایل آل (El Al) ہے۔ اس کی فلائٹ نمبر ۸۲ (LY-082) کے ذریعہ بمبئی سے روانگی ہوئی۔ جہاز اپنے وقت پر صبح چار بجے روانہ ہوا۔ جب کہ کی لینڈرمیں، ۲ اگست کی تاریخ ہو چکی تھی۔ یہ سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز تھی۔ راستہ میں بار بار نیند آتی رہی۔ اس طرح راستہ آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔
جہاز میں ایک شخص نے میرے چہرہ پر داڑھی اور سر پر پگڑی دیکھ کر کہا کہ کیا آپ سکھ ہیں؟ Are you a Sikh میں نے کہا کہ نہیں، میں مسلم ہوں۔ اگر وہ زیادہ غور کرتا تو ایسا سوال نہ کرتا۔ کیوں کہ میری داڑھی سکھوں کی داڑھی سے مختلف تھی۔ اسی طرح میری سفید پگڑی سوڈانیوں کی پگڑی سے مشابہ تھی نہ کہ سکھوں کی پگڑی سے۔ فرق یہ ہے کہ سوڈانیوں کی پگڑی کافی بڑی ہوتی ہے اور میری نسبتاً چھوٹی۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو نیچے بادلوں کا منظر تھا جس کے اوپر جہاز رینگتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہی منظر ہر جہاز میں اور ہر ملک میں سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل کے سفر میں جو منظر مشاہدہ میں آرہا ہے وہی غیر اسرائیل کے سفر میں بھی نظر آتا ہے۔ مگر انسان کا مزاج عجیب ہے۔ وہ مشابہتوں پر دھیان نہیں دیتا اور اختلافات کی طرف زیادہ دوڑتا ہے۔ جہاز اور اس کی سروس دوسرے ملکوں کے جہازوں کے مقابلہ میں معمولی تھی۔ حتی کہ ایرا نڈیا کے مقابلہ میں بھی۔ رات کو مسافروں کی تفریح کے لیے جو فلم دکھائی گئی وہ زیادہ تر مار دھاڑ کی فلم تھی۔ کچھ نوجوان گولی مارتے ہوئے اور بم مارتے ہوئے دکھائے گئے جس سے ماحول میں تباہی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ اسرائیل کی اقتصادیات جنگی اقتصادیات (war-based economy) ہے۔ یہاں کے تمام بہترین وسائل جنگی تیاریوں اور متشددانہ کارروائیوں پر صرف ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سنگاپور اور جاپان کی طرح ترقی نہ کر سکا۔
صبح کو کھڑکی کھولی تو سورج کی سنہری روشنی کھڑکی کے راستہ سے اندر داخل ہوئی اور جہاز کے اندر ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ سورج اسرائیلی جہاز اور غیر اسرائیلی جہاز میں فرق نہیں کرتا۔ اس کی نفع رسانی ہر ایک کے لیے یکساں طور پر جاری ہے۔ یہ خدائی اخلاقیات ہے جس کو گویا سورج کے ذریعہ معلوم و مشہود بنایا جا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues