Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

میں مسیحی قبضہ کو ختم کر کے دوبارہ مقدس پر مسلم سلطنت قائم کی۔

اس کے بعد تھوڑے تھوڑے وقفہ کے لیے چند انقلابات پیش آئے اور آخر میں ۱۵۱۷ء میں عثمانی سلطان سلیم اول نے یہاں ترک حکومت قائم کی جو مسلسل چار سو سال تک باقی رہی۔ ۱۹۱۷ میں برطانیہ نے لیگ مینڈ یٹ کے تحت یروشلم پر سیاسی بالا دستی حاصل کر لی۔ ۱۹۴۸ء سے فلسطین کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یروشلم کا نیا دور آیا تو ابتدامیں شہر ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۷ء تک دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک کو اردنی سیکٹر اور دوسرے کو اسرائیلی سیکٹر کہا جاتا تھا۔ جون ۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے بقیہ نصف پر قبضہ کر کے پورے یروشلم پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ مصر کے سابق حکمراں جمال عبدالناصر جوالاخوان المسلمون کی مکمل تائید سے حکومت میں آئے تھے، انھوں نے احمقانہ جوش کے تحت جولائی ۱۹۵۶ء میں نہر سوئز کے پٹہ کو قبل از وقت منسوخ کر دیا اور اس کو سر کاری قبضہ میں لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد حالات میں جو زبر دست تبدیلی ہوئی اسی کا نتیجہ تھا کہ یروشلم پورا کا پورا اسرائیلی قبضہ میں چلا گیا ۔ بیشتر انسانی تباہیاں ہمیشہ نادانی کے اقدام کے نتیجہ میں پیش آتی ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ نومبر ۱۹۹۲ء صفحہ ۲۸) یروشلم میں پہلی عبادت گاہ (ہیکل) حضرت سلیمان نے اپنی بادشاہت کے زمانہ میں بنائی۔ یہ ہیکل ، ۹۵ ق م میں بن کر تیار ہوا۔ اس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکمراں بنو خذ نصر (Nebuchadrezzar II) نے لوٹا اور ۵۸۶ ق م میں اس کو مکمل طور پر ڈھا دیا ۔ ایک عرصہ کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اس دوسری عبادت گاہ (ہیکل) کو بھی رومیوں نے ۷۰ء میں ڈھاکر کھنڈر کر دیا۔ اس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے جس کو دیوار گریہ (Wailing Wall) یا مغربی دیوار کہا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یروشلم کی وہ کون سی "مسجد اقصی تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء اور معراج کے وقت ۶۲۲ء میں تمام انبیاء کے ساتھ نماز ادا فرمائی۔ تاریخی شہادت کے مطابق، اس وقت وہاں صرف کھنڈر تھا، اس وقت وہاں کوئی "مسجد" موجود نہ تھی۔ مگر صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب اپنے اس واقعہ کا اعلان فرمایا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page