Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

دوسری روایت کے مطابق ، آپ کا سفر اونٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ سفر کس طرح طے ہوا۔ ایک روایت کے مطابق ، آپ اور آپ کا غلام دونوں اونٹ باری باری بیٹھتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق ، تین باری تھی۔ ایک بار آپ اور ایک بار غلام سوار ہوتا تھا اور تیسری بار اونٹ کو خالی رکھا جاتا تھا تا کہ وہ آرام کرلے ۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق ۶۳۸ء میں فاتحانہ طور پر یروشلم میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد سے فلسطین مسلسل مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔ بارھویں صدی عیسوی میں مسیحیوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا جو ۸۸ سال تک جاری رہا۔ اس قبضہ کو صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ء میں ختم کیا۔ ایک صاحب سے ۔۔۔ ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں امیر المومنین کے فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ۔۔۔ گفتاگرگ کی تمہید ہے؟ ہم ایک عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ اس دور میں زندگی بڑی الجھنوں کا شکار ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بظاہر صلاح الدین ایوبی نے یہ کامیابی صرف ایک دن (۴ جولائی، ۱۱۸۷ء) کی جنگ حطین میں حاصل کی تھی۔ مگر یہ کامیابی جوش کا نہیں بلکہ تیاری کا نتیجہ تھی۔ اس ایک دن کی فتح کے لیے صلاح الدین نے کئی سال تک غیر معمولی تیاریاں کی تھیں، یہاں تک کہ اس کی فوجی طاقت لاطینی صلیبیوں کے برابر ہو گئی۔

مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں نے جب یروشلم کو فرینک (Franks) کے قبضہ سے واپس لیا تو انھوں نے وہاں کے باشندوں سے انتہائی شرافت کا معاملہ کیا۔ مسیحیوں نے جب یروشلم پر قبضہ کیا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر وہاں کے باشندوں کو قتل کیا تھا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا تھا۔ اس کے بالکل برعکس مسلمانوں کی دوبارہ فتح ممتاز طور پر پر شائستگی کا انداز لیے ہوئے تھی۔ صلاح الدین اور اس کے فوجیوں نے لوگوں سے نہایت فیاضانہ سلوک کیا : In stark contrast to the city's conquest by the Christians, when blood flowed freely during the barbaric slaughter of its inhabitants, the Muslim reconquest was marked by the civilized good faith and courteous behaviour of Saladin and his troops. (16/177)

صلاح الدین ایوبی نے ۵۸۳ھ میں یروشلم (قدس) کو فتح کیا تھا۔ اس وقت یہ ایک حصار بند شہر تھا اور نہایت مشکل کے ساتھ اس کی فتح ممکن ہو سکی۔ فتح کے بعد جب مسلمان اندر داخل ہوئے تو مسجد اقصی اور قبة الصخرہ میں کثرت سے صلیب اور تماثیل وغیرہ رکھی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ وہاں خنزیر بھی موجود تھے۔ مسلمانوں نے ان مقدس مقامات کی پوری صفائی کی اور اس کو پھر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page